جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6322ویں روز بھی جاری رہا۔
سیاسی و سماجی رہنما سوریش بگٹی اور ماسٹر خان محمد سمیت دیگر افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور جبری لاپتہ افراد کے لواحقین سے ملاقات کرکے ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ کسی بھی شہری کو قانون کے مقررہ طریقۂ کار کے بغیر حراست میں رکھنا اور اسے عدالت کے سامنے پیش نہ کرنا آئین اور قانون کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے۔ ہر شہری کو آئین کے تحت زندگی، آزادی، قانونی تحفظ اور منصفانہ عدالتی کارروائی کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص پر کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور اسے اپنے دفاع کا مکمل حق دیا جائے۔ کسی شہری کو طویل عرصے تک لاپتہ رکھنا نہ صرف اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے خاندان کو بھی شدید اذیت اور بے یقینی سے دوچار کرتا ہے۔
نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے، لاپتہ افراد کو بازیاب کرکے عدالتوں میں پیش کیا جائے، جبکہ جن افراد کے خلاف کوئی مقدمہ یا الزام ہے، انہیں شفاف قانونی کارروائی کا حق دیا جائے۔

















































