مولانا خلیل اللہ شہاب نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ اصلاً نسلاً مسلمان رہا ہے اور وہ تم (پاکستانیوں) سے اچھا مسلمان رہا ہے۔ جس اسلام کی تشریح تم اور تمہارے پیروکار چینلوں پر کررہے ہیں وہ اسلام کی تشریح نہیں بلکہ اسلام کی بے حرمتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بلوچ نوجوان ہمارے بچے ہیں، ان کے والدین، ان کے خاندان، شجرہ سب کو ہم جانتے ہیں لہٰذا ان کو انڈیا یا اسرائیل کا ایجنٹ کہنا تمہارا وہ بیانیہ جو آخری سانسیں لے رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ آج اپنے پاؤں پر کھڑا ہے، گذشتہ اسی سالوں سے وہ تمہارے ہاتھوں اذیت سہتا رہا ہے، تمہارے ظلم و جبر سے بلوچ آج جنگ کیلئے مجبور ہوچکا ہے لہٰذا بلوچ کے اسلام، مسلمانیت کو مشکوک قرار دینا دروغ گوئی پر مبنی ایک بیانیہ ہے تاکہ لوگوں کو حب الوطنی سے ہٹھایا جاسکے۔
مولانا نے مزید کہا کہ آج بلوچستان میں تین سو سے زائد قبروں پر مشتمل قبرستان لاوارث قرار دیئے گئے۔ یہ کیسے لاوارث ہیں، اس سے بڑھ کر کوئی ظلم ہوسکتا ہے کہ لڑکی اپنے منگیتر کے انتظار میں ہے، بہن اپنے بھائی کے انتظار میں ہے، بوڑھی والدہ ضعیف آنکھوں کیساتھ اپنے بیٹے کے انتظار میں ہے، کیا ان کے پیارے ان لاوارث قبرستانوں میں دفن نہیں کیئے گئے ہیں۔
“کسی کا ایک ووٹ چوری ہوتا ہے تو وہ جلاؤں گھیراؤں کرتا ہے لیکن کسی کا نوجوان پیارا جبری لاپتہ ہے اور وہ خاموش رہیں۔ ایسے افراد بھی ہیں جو بیس سالوں سے جبری لاپتہ ہے ان کے باوجود ہم کیسے خاموش رہیں۔”
خلیل اللہ شہاب نے کہا کہ آج بلوچ نوجوانوں میں شعور آچکا ہے وہ تمہیں ہر پلیٹ فارم سے مسترد کرچکے ہیں، تمہیں اور تمہاری ریاست سے انکاری ہے، تمہاری پروجیکٹس و بلوچستان کے نام پر دیئے گئے پیکجز کو مسترد کرچکے ہیں اور اس ظلم کے سامنے وہ تمہیں شکست دیں گے۔

















































