بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے پارٹی کے دیگر مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سوراب میں فضائی حملے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد کی ہلاکت کی مذمت کی اور واقعے کے خلاف 16 اگست کو بلوچستان بھر میں احتجاج اور مظاہروں کا اعلان کیا۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ سوراب میں فضائی حملے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد کی ہلاکت ظلم کی انتہا ہے، بلوچستان نیشنل پارٹی واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوراب واقعے کے خلاف جاری دھرنے کی بھی مکمل حمایت کرتے ہیں اور خضدار، سوراب، قلات اور گردونواح کے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو دھرنے میں شرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی این پی سوراب واقعے، لاپتہ افراد اور بلوچستان کے دیگر مسائل کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتی ہے۔
ساجد ترین نے موجودہ سیاسی و عدالتی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد موجودہ ججز محض موجودہ حکومت کے ملازم بن کر رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صورتحال مستحکم ہونے کے حکومتی دعوے کیے جاتے ہیں، تاہم مختلف علاقوں میں کرفیو اور پابندیاں عائد ہیں، اس صورتحال کی وضاحت ضروری ہے۔ ان کے بقول طاقت کے استعمال سے بلوچستان میں نفرت میں مزید اضافہ ہوگا۔
بی این پی رہنما نے کہا کہ وڈھ اور مستونگ میں پیش آنے والے واقعات سمیت بلوچستان میں ہونے والے دیگر واقعات کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان کی صورتحال مسلسل کیوں خراب ہو رہی ہے۔
ساجد ترین نے کہا کہ 16 اگست کے احتجاج کے بعد پارٹی کا مرکزی اجلاس طلب کیا جائے گا، جس میں آئندہ کے احتجاجی لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بی این پی ہر قسم کے جبر اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی جانب سے بلوچستان کے ساتھ طویل عرصے سے کالونی جیسا سلوک کیا جاتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام اپنی سرزمین چھوڑنے کے بجائے مشکلات اور موت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
پریس کانفرنس میں بی این پی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، مرکزی سیکریٹری فنانس اختر حسین لانگو، مرکزی لیبر سیکریٹری موسیٰ بلوچ، پروفیشنل سیکریٹری رمضان بلوچ، بی ایس او کے مرکزی سیکریٹری جنرل صمند بلوچ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔


















































