زہری واقعے کے خلاف بی این پی کی کال پر بلوچستان بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال

27

بلوچستان نیشنل پارٹی کی کال پر کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ یہ احتجاج زہری میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں پارٹی رہنماؤں اور دیگر افراد کی گرفتاری، نیز ایک نوجوان کے قتل کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی کال پر لسبیلہ، قلات، نوشکی، مستونگ، ڈیرہ مراد جمالی، خاران، خضدار، کیچ، واشک، پنجگور اور دیگر اضلاع میں بھی سانحۂ زہری کے خلاف مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کے باعث شہروں کے تمام چھوٹے بڑے تجارتی اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے، جبکہ معمول کی سرگرمیاں معطل رہیں۔

اس موقع پر احتجاجی مظاہرین نے بلبل زہری کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

بی این پی کے رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی اپنے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں پر خاموش نہیں رہے گی اور عوام کے جمہوری و سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلبل زہری واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ پارٹی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر گرفتار افراد کو رہا نہ کیا گیا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو احتجاجی تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔