تربت: سوراب واقعے کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال، پولیس کی جانب سے دکانوں کے تالے توڑ دیے گئے

29

سوراب، گدر میں آبادی پر پاکستانی جیٹ طیاروں کی بمباری کے خلاف تربت میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران پولیس اہلکاروں کی جانب سے بعض دکانوں کے تالے توڑنے اور انہیں زبردستی کھولنے کی کوشش کی گئی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کو اسسٹنٹ کمشنر تربت کی موجودگی میں دکانوں کے تالے توڑتے اور دکانیں کھلوانے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب انجمن تاجران نے مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تنظیم کی جانب سے ہڑتال کی کوئی کال نہیں دی گئی تھی، تاہم دکانداروں نے سوراب واقعے کے خلاف رضاکارانہ طور پر اپنی دکانیں بند کی تھیں۔ انجمن تاجران نے دکانوں کے تالے توڑے جانے کے اقدام پر افسوس کا اظہار کیا۔

انجمن تاجران کے مطابق معاملہ ڈپٹی کمشنر کیچ کے نوٹس میں لایا گیا، جس کے بعد ڈپٹی کمشنر کی مداخلت سے معاملہ حل ہو گیا اور کسی قسم کی مزید اشتعال انگیزی یا بد مزگی پیدا نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع سوراب میں گدر کے علاقے میں پاکستانی فوج کے فضائی حملے اور اس کے نتیجے میں شہریوں کے قتل کے خلاف آج جمعرات کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں اور مقامی افراد نے میتیں قومی شاہراہ پر رکھ کر احتجاج کیا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے مطابق سوراب، خضدار، قلات، مستونگ، نوشکی اور دیگر علاقوں میں متعدد کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہیں۔ کئی مقامات پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں