بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6313ویں روز بھی جاری رہا۔
آج احتجاجی کیمپ میں جمعہ خان نیچاری نے شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ بی بی رافیعہ، بیٹی بی بی تانیہ اور نواسی جوریہ کو 30 جولائی سہ پہر تقریباً 3 بجے ایف سی چیک پوسٹ لک پاس پر، جب وہ قلات سے کوئٹہ آ رہے تھے، ویگن سے اتار کر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لیا اور بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے متعلقہ انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے متعدد بار رابطہ کیا، جبکہ سی سی پی او آفس میں بھی شکایت درج کرائی، مگر تاحال ان کی اہلیہ، بیٹی اور نواسی کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث پورا خاندان شدید ذہنی اذیت اور بے چینی کا شکار ہے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے جمعہ خان نیچاری کو یقین دہانی کرائی کہ تنظیم کی جانب سے بی بی رافیعہ، بی بی تانیہ اور جوریہ کا معاملہ ملکی قوانین کے مطابق حکومت، لاپتہ افراد سے متعلق کمیشن اور انصاف کی فراہمی کے ذمہ دار اداروں کے سامنے اٹھایا جائے گا، اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر دستیاب آئینی و قانونی فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک ہی خاندان کی تین خواتین کی مبینہ جبری گمشدگی کے اس واقعے کا فوری نوٹس لیں، شفاف تحقیقات کرائیں، اور بی بی رافیعہ، بی بی تانیہ اور جوریہ کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔


















































