آج کوئٹہ میں بی وائی سی رہنماؤں کی قانونی ٹیم نے ایک پریس کانفرنس منعقد کی، جس میں گلزادی بلوچ کو سنائی گئی عمر قید کی سزا پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
وکلاء نے کہا کہ گلزادی بلوچ کو اپنے دفاع کا منصفانہ موقع فراہم نہیں کیا گیا، جس سے قانونی تقاضوں، شفاف عدالتی کارروائی اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کارروائی کے دوران ججز پر مبینہ دباؤ کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
قانونی ٹیم نے مطالبہ کیا کہ گلزادی بلوچ کو منصفانہ ٹرائل کا حق دیا جائے، عدالتی کارروائی کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور ان کے مقدمے کا ازسرِنو قانونی جائزہ لیا جائے۔
قانونی ٹیم کے رکن ایڈووکیٹ شعیب مینگل نے گلزادی بلوچ کیس کے حقائق اور قانونی تفصیلات میڈیا کے سامنے پیش کیں۔ انہوں نے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر واضح کیا کہ جس مقدمے میں گلزادی بلوچ کو سزا سنائی گئی ہے، حقیقت میں وہ اس کیس میں سرے سے ملزمہ ہی نہیں تھیں۔
قانونی ٹیم نے پریس کانفرنس کے دوران کیس کے تمام حقائق تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی کارروائی اور دی جانے والی سزا قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، کیونکہ کسی شخص کو مقدمے میں نامزد کیے بغیر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔



















































