بلوچستان: چار افراد جبری گمشدگی کا شکار

1

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے چار افراد کے جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں دو 14 سالہ طلبہ بھی شامل ہیں۔ اہلِ خانہ کے مطابق ان افراد کو پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق بلیدہ کورے پشت کے رہائشی منصور انور کو 4 اگست 2026 کی شب تقریباً 3 بجے پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے ان کے گھر سے طلب کر کے اپنے ہمراہ لے گئے، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔ اہلِ خانہ کے مطابق منصور انور اس سے قبل بھی نومبر 2023 میں جبری گمشدگی کا شکار ہوئے تھے اور تقریباً دو ماہ بعد جنوری 2024 میں بازیاب ہوئے تھے۔

دوسرے واقعے میں کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ سے دو کم عمر طلبہ صفی اللہ بلوچ ولد مہراللہ بلوچ اور مدثر بلوچ ولد شیر دل بلوچ کو 24 جولائی 2026 کی صبح تقریباً 5 بجے سی ٹی ڈی اور آئی ایس آئی اہلکاروں نے حراست میں لیا۔ دونوں طلبہ کی عمر 14 سال بتائی گئی ہے ۔

اسی طرح کوئٹہ سے 19 سالہ مزدور نجیب اللہ بلوچ ولد سرور بلوچ کو 7 جولائی 2026 کی رات تقریباً 2 بجے ان کے گھر سے سی ٹی ڈی اور آئی ایس آئی اہلکاروں نے اٹھایا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے، جبکہ کئی کیسز ریاستی دباؤ، دھمکیوں اور دیگر مشکلات کے باعث تاخیر سے منظر عام پر آتے ہیں۔