بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ 6335ویں روز بھی جاری رہا۔
اس موقع پر آواران سے تعلق رکھنے والے جبری لاپتہ افراد کے لواحقین نے وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ سے رابطہ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز آواران کے علاقے کولواہ سے پاکستانی فورسز نے رفیق، شاکر اور شاکر کی اہلیہ گل بانک ولد حمل کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
لواحقین کے مطابق متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے نہ تو گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا جا رہا ہے اور نہ ہی مذکورہ افراد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث ان کے اہلِ خانہ شدید ذہنی اذیت اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے لواحقین کو یقین دہانی کرائی کہ رفیق، شاکر اور گل بانک کی جبری گمشدگی کا معاملہ ملکی قانون کے تحت متعلقہ اداروں اور حکومت کے سامنے اٹھایا جائے گا اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر ممکن فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔
نصراللہ بلوچ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ رفیق، شاکر اور گل بانک سمیت تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، جبکہ حراست میں لیے گئے افراد کے بارے میں ان کے اہلِ خانہ کو معلومات فراہم کی جائیں اور انہیں قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

















































