بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہےکہ حاتم بلوچ ولد احمد سکنہ پنجگور، جو اسکول ٹیچر تھے۔ انہیں عید سے قبل واشبود مین بازار سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ انہیں ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہوں نے لاپتہ کیا ، جس کے بعد کئی ہفتوں تک ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔
انہوں نے کہاکہ حاتم بلوچ ایک استاد تھے اور اپنی زندگی دوسروں کو تعلیم دینے کے لیے وقف کیے ہوئے تھے۔ ایک عام شہری اور استاد کی حیثیت سے تحفظ ملنے کے بجائے وہ بھی بلوچستان میں بلوچ عوام کے خلاف جاری تشدد کا ایک اور شکار بن گئے۔ 8 اگست کو ان کی لاش مین سی پیک روڈ پر جعفر اسکیم کے قریب پھینکی ہوئی ملی، جس کے بعد ان کے اہلخانہ کی کئی ہفتوں پر محیط بے یقینی اور انتظار کا المناک اختتام ہوا۔
بی وائی سی نے کہا کے کہ حاتم بلوچ کا قتل بلوچستان میں بلوچ شہریوں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مسلح گروہ اور سکیورٹی سے منسلک عناصر بغیر کسی مؤثر احتساب کے کارروائیاں کرتے ہیں۔ اساتذہ، طلبہ، مزدور، ماہی گیر اور دیگر عام شہری جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ان کے خاندان عمر بھر کے دکھ اور صدمے میں مبتلا رہتے ہیں۔
حاتم بلوچ کا قتل اور ان کی لاش کو سڑک کنارے پھینک دینا صرف ایک انسانی جان کا خاتمہ نہیں بلکہ پہلے سے جاری انسانی حقوق کے بحران سے دوچار ایک پوری برادری کے لیے ایک اور گہرا صدمہ ہے۔ ایسے واقعات خوف کو مزید بڑھاتے، خاندانوں کو تباہ کرتے اور بلوچستان میں مبینہ استثنیٰ کی فضا کو مضبوط کرتے ہیں۔
مزید کہا ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر دستاویزی شکل دیں اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کریں۔ بلوچستان کے عوام کو مزید تحفظ، انصاف اور اپنے پیاروں کے بارے میں جواب کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا۔


















































