بلوچستان میں تین افراد جبری لاپتہ، ایک شخص سات ماہ بعد بازیاب

15

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں مختلف علاقوں سے تین افراد کے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایک شخص کو تقریباً سات ماہ بعد عدالت میں منظر عام پر لا کر بازیاب کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مستونگ سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ مدثر بلوچ ولد ٹکری بابل کو 21 اگست 2026 کو دوپہر 2 بجے رحمان ہوٹل، آر سی ڈی روڈ مستونگ سے فرنٹیئر کور (ایف سی) نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

دوسرے واقعے میں کوئٹہ کے فرید کالونی، کلی اسماعیل کے رہائشی 22 سالہ تنویر بلوچ ولد خان محمد کو 27 جولائی 2026 کو رات 3 بجے گھر سے آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

اسی طرح کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ اسرار بلوچ ولد عبدالروف کو 26 جولائی 2026 کو رات 3 بجے کلی کمالو، سریاب روڈ، کوئٹہ سے سی ٹی ڈی اور آئی ایس آئی نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

دریں اثنا، کیچ کے علاقے نگور سے تعلق رکھنے والے مہراب بلوچ ولد بیگ محمد، جنہیں 15 جنوری 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، کو 21 اگست 2026 کو تربت کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں منظر عام پر لایا گیا، جس کے بعد ان کی بازیابی ظاہر کی گئی۔