بلوچستان میں جبری گمشدگیاں بدستور جاری، متاثرہ خاندان کرب میں مبتلا۔ نصراللہ بلوچ

13

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6335ویں روز بھی جاری رہا۔

وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے، جس کے باعث لاپتہ افراد کے خاندان شدید کرب، اذیت اور ذہنی پریشانی سے دوچار ہیں۔ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے لواحقین برسوں سے احتجاج، قانونی جدوجہد اور مختلف پرامن ذرائع اختیار کر رہے ہیں، تاہم طویل جدوجہد کے باوجود بہت سے لاپتہ افراد کی بازیابی اور ان کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی طویل، پرامن اور جمہوری جدوجہد کا بنیادی مقصد لاپتہ افراد کی بازیابی، جبری گمشدگیوں کا خاتمہ اور ہر شہری کے بنیادی و قانونی حقوق کا تحفظ ہے۔ تنظیم کا مطالبہ ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، اور اگر کسی شخص کے خلاف کوئی مقدمہ یا الزام موجود ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگی نہ صرف متاثرہ فرد بلکہ پورے خاندان کو طویل اذیت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اس لیے ریاستی اداروں اور متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے لاپتہ افراد کے خاندانوں کو ان کے پیاروں کے بارے میں معلومات فراہم کریں اور اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر ختم، تمام لاپتہ افراد کو بازیاب اور لواحقین کی طویل اذیت کا خاتمہ کیا جائے۔