ایران، بلوچ اور کرد اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کرے- اقوام متحدہ

23

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آزاد ماہرین نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کی کرد اور بلوچ اقلیتیں خاص طور پر اپنے خلاف ریاستی کارروائیوں سے متاثر ہو رہی ہیں۔
ایک بیان میں کہا گیا، ”ایران کی نسلی اقلیتوں کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ امتیازی سلوک سے پاک، محفوظ اور باوقار زندگی گزار سکیں۔‘‘

اس بیان کے مطابق گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والا عوامی احتجاج جلد ہی حکومت مخالف ملک گیر مظاہروں میں تبدیل ہو گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ان ماہرین کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے آغاز کے بعد سے ایرانی حکام نے مبینہ طور پر ہزاروں افراد کو حراست میں لیا ہے۔

انہوں نے کہا، ”اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ من مانی گرفتاریوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بظاہر سیاسی بنیادوں پر سزائیں سنائی جا رہی ہیں، جن میں نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں، جنہیں اکثر قومی سلامتی سے متعلق وسیع نوعیت کے الزامات کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے۔‘‘

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میںموجودہ جنگشروع ہو گئی۔ اس کے بعد سے ایران میں اس تنازعے اور احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں گرفتاریوں اور سزائے موت دیے جانے کے واقعات میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابقگزشتہ سال ایران میں 2,150 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی، جس کی وجہ سے چین کے بعد ایران دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والا ملک رہا۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے بتایا کہ رواں سال اب تک بلوچ اقلیت کے کم از کم 24 اور کرد اقلیت کے 22 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے، جبکہ متعدد دیگر افراد کو بھی سزائے موت کا فوری خطرہ لاحق ہے۔

ان کے مطابق سیاسی اور سماجی بے چینی کے ادوار میں نسلی اقلیتوں کو مسلسل ایسے بیانیے کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے جس میں انہیں قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرد اور بلوچ اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں ایران کی سرحدوں سے باہر بھی جاری ہیں، جن میں بیرون ملک مقیم افراد کے خلاف دھمکیاں اور نگرانی کی پالیسی بھی شامل ہیں۔

بیان جاری کرنے والے ماہرین میں ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ مائی ساتو سمیت مذہبی آزادی، ماورائے عدالت قتل، اقلیتی امور، عدلیہ کی آزادی اور اجتماع کی آزادی سے متعلق خصوصی نمائندے شامل تھے۔ یہ نمائندے انسانی حقوق کی کونسل کی جانب سے مقرر کردہ آزاد ماہرین ہوتے ہیں، جو اپنی تحقیقات اور مشاہدات پیش کرتے ہیں، تاہم وہ اقوام متحدہ کے باضابطہ موقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔

ایرانی حکام کا موقف ہےکہ ملک میں تشدد کے واقعات امریکہ اور اسرائیل کی سرپرستی میں ہونے والی مبینہ ”دہشت گردانہ کارروائیوں‘‘ کا نتیجہ ہیں۔