وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد سے متعلق قائم کمیشن نے جبری لاپتہ شاہد احمد کرد اور نور محمد کرد کے کیسز باقاعدہ رجسٹر کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
کمیشن کی جانب سے جاری حکم نامے میں متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دونوں جبری لاپتہ افراد کے بارے میں فوری معلومات فراہم کی جائیں اور ان کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
وی بی ایم پی نے یاد دلایا کہ تنظیم نے شاہد احمد کرد اور نور محمد کرد کے کیسز کمیشن اور صوبائی حکومت کو فراہم کیے تھے اور دونوں کی فوری اور باحفاظت بازیابی کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔
دریں اثنا، وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے جیئند بلوچ کی جبری گمشدگی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری اور باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
جیئند بلوچ کی اہلیہ کے مطابق، رات تقریباً 11 بجے سی ٹی ڈی کے اہلکار ان کے گھر میں داخل ہوئے، اہلِ خانہ کو اسلحے کے زور پر ہراساں کیا اور جیئند بلوچ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اس واقعے کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی، جس کے باعث اہلِ خانہ شدید اضطراب میں مبتلا ہیں۔
چیئرمین وی بی ایم پی نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جیئند بلوچ کی جبری گمشدگی ایک ماورائے آئین اقدام اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کی تنظیم شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ جیئند بلوچ کی باحفاظت بازیابی کو فوری یقینی بنایا جائے، اور اگر ان پر کسی نوعیت کا الزام موجود ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔
وی بی ایم پی نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ شاہد احمد کرد، نور محمد کرد اور جیئند بلوچ سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور انسانی حقوق و آئینی تقاضوں کے مطابق تمام کارروائیاں شفاف انداز میں انجام دی جائیں۔


















































