خاران میں چند روز قبل اغوا کیے گئے حافظ کبیر کی لاش برآمد، پولیس

131

بلوچستان کے ضلع خاران میں گواش کے علاقے سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے، جس کی شناخت حافظ کبیر ایچباڑی کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حافظ کبیر کو چند روز قبل مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

پولیس کے مطابق لاش سی پیک روڈ پر واقع گواش کے علاقے سرگردان سے ملی، جبکہ ابتدائی معلومات کے مطابق لاش کی شناخت حافظ کبیر ایچباڑی کے طور پر کی گئی ہے۔

حافظ کبیر کو 18 جولائی کی شب اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب مسلح افراد نے ان کے گھر پر حملہ کیا، جس میں ان کے بیٹے عبدالحکیم ہلاک ہوگئے، جبکہ حافظ کبیر اور ان کے ایک اور بیٹے حافظ نوید کو اپنے ساتھ لے جایا گیا۔

بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ حافظ کبیر کا تعلق ایک حکومتی حمایت یافتہ گروہ سے تھا۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ حافظ کبیر اور حافظ نوید اس کی تحویل میں ہیں اور مکمل تفتیش کے بعد ان کے بارے میں فیصلہ “بلوچ قومی عدالت” میں کیا جائے گا۔

حافظ کبیر کی ہلاکت کے حوالے سے بی ایل ایف نے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم تنظیم نے اپنے آفیشل چینل پر حافظ کبیر کی تصویر پر مشتمل ایک پوسٹر جاری کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ “قومی مجرم حافظ کبیر” کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔