قلات: بلوچ لبریشن آرمی کے زیرحراست اے ایس ایف افسر کی لاش برآمد

37

بلوچستان کے ضلع قلات سے ایک ماہ قبل بلوچ لبریشن آرمی کی جان سے حراست میں لیئے جانے والے ایئرپورٹس سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق 58 سالہ محمد وسیم کا تعلق کراچی سے تھا۔ انہیں رواں سال 20 مئی کو ایک ساتھی سمیت قلات سے تقریباً 40 کلومیٹر دور محمد تاوا سے اس وقت نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا جب وہ کوئٹہ سے کراچی جارہے تھے۔

 واقعے کے بعد سی ٹی ڈی پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جبکہ مغوی افسر اور ان کے ساتھی کی بازیابی کے لیے پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور دیگر اداروں کی جانب سے سرچ آپریشن شروع کیا گیا تھا تاہم انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔

قلات ڈویژن انتظامیہ کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ کہ بدھ کو محمد وسیم کی لاش قلات کے پولیس تھانہ صدر کی حدود میں توک نامی علاقے سے برآمد ہوئی۔

قلات پولیس کنٹرول نے بھی واقعہ کی تصدیق کی اور بتایا کہ لاش کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ سے تقریباً دو کلومیٹر مشرق کی جانب ایک ویران مقام سے ملی۔

 پولیس نے لاش کو ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال قلات منتقل کیا اور پھر ضروری کارروائی کے بعد کراچی روانہ کردی۔

پولیس کے مطابق اے ایس ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد وسیم احمد 20 مئی کو اپنے ساتھی کے ہمراہ کوئٹہ سے کراچی جا رہے تھے۔ وہ ایک نجی گاڑی میں سفر کر رہے تھے جس میں دو ڈرائیور بھی موجود تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جب گاڑی محمد تاوا کے علاقے میں پہنچی تو نامعلوم مسلح افراد نے اسے روک لیا۔ مسلح افراد شناخت کے بعد محمد وسیم احمد اور ان کے ساتھی کو اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ گاڑی اور دونوں ڈرائیوروں کو بعد میں چھوڑ دیا۔ ڈرائیوروں نے واقعے کی اطلاع صدر پولیس سٹیشن قلات میں دی جس کے بعد مغویوں کی تلاش شروع کی گئی۔

بلوچ لبریشن آرمی نے اے ایس ایف افسر کو حراست میں لینے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ترجمان جیئند بلوچ نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ قابض پاکستان کے وزارت دفاع کے ایئرپورٹ سیکورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ڈپٹی ڈائریکٹر و کمانڈنگ افسر وسیم احمد ہماری تحویل میں ہے۔ بی ایل اے کے سرمچاروں نے انہیں قلات کے مرکزی شاہراہ پر شناخت کے بعد حراست میں لیا۔

جیئند بلوچ نے کہا کہ یہ کارروائی بی ایل اے کے انٹیلی جنس ونگ زراب کی فراہم کردہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر سرانجام دی گئی۔