بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 3 اگست 2026 کو ایک حملے میں سوراب بائی پاس پر قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کے 7 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ اسی روز 3 اگست 2026 کو سوراب کے علاقے گدر میں گھات لگا کر حملے میں قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کے 3 اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ فوجی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
ترجمان نے کہا کہ ایک اور کاررائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 2 اگست 2026 کو خضدار کے علاقے لاکھوریان میں قابض پاکستانی فوج کے 5 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد فوجی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ دو گاڑیاں بھی حملے کے زد میں آنے سے ناکارہ ہوگئیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے یکم اگست 2026 کو تربت کے علاقے سنگانی سر میں سائن بورڈ کے مقام پر قائم فرنٹیئر کور (ایف سی) کی ایک چوکی کو دستی بم حملے کا نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ایف سی کے 2 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ یکم اگست 2026 ہی کو ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے ہیرونک بازار میں قائم فرنٹیئر کور (ایف سی) کے کیمپ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے، جو اپنے اہداف پر جا کر گرے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور اہم کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 29 جولائی 2026 کو خضدار کے علاقے میں کوئٹہ – کراچی مرکزی شاہراہ پر زیدی کراس کے مقام پر گھات لگا کر قابض پاکستانی فوج کے ایک گشتی قافلے پر مربوط اور منظم حملہ کیا۔ اس حملے میں سرمچاروں نے راکٹ لانچرز اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے انتہائی قریب سے فوجی قافلے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دشمن کے ایس ایس جی (SSG) کمانڈوز سمیت 15 اہلکار ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔ حملے کے دوران ایک بکتر بند گاڑی سمیت قابض فوج کی متعدد گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ کارروائی کو کاملاً انجام دینے کے بعد سرمچار طے شدہ حکمتِ عملی کے تحت اپنے ٹھکانوں کی طرف روانہ ہو گئے۔ واقعے کے بعد قابض فوج کی مزید نفری اور گن شپ ہیلی کاپٹرز جائے وقوعہ پر پہنچے اور سرمچاروں کا تعاقب کرنے کی ناکام کوشش کی، تاہم ہمارے سرمچار کارروائی مکمل کر کے بحفاظت علاقے سے نکلنے اور اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ سرمچاروں کے نکلنے کے بعد حواس باختہ قابض فوج نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے عام آبادی پر اندھا دھند فائرنگ اور گولہ باری کی جس کی زد میں آ کر مقامی سطح پر تیل کے کاروبار سے وابستہ عام شہری اور ڈرائیورز نشانہ بنے جس کے باعث وہ شدید متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے سرمچاروں نے 28 جولائی 2026 کو پیدراک کے علاقے درمکول کے مقام پر تنظیمی انٹیلی جنس ونگ کی انتہائی خفیہ اور معتبر اطلاع پر آپریشن کرتے ہوئے بدنامِ زمانہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ سردار عزیز کے قائم کردہ مرکزی ناکہ پر حملہ کیا۔ یہ ناکہ عوام کو ہراساں کرنے اور زبردستی بھتہ وصولی کے لیے قائم کیا گیا تھا، جو فرنٹیئر کور (ایف سی) 54 ونگ پیدارک کیمپ سے محض 1 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جسے قابض فورسز کی مکمل سرپرستی حاصل تھی۔ اس ناکہ اور نام نہاد چیک پوسٹ کو قابض پاکستانی فوج اور اس کے خفیہ اداروں کی براہِ راست سرپرستی میں 2014 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس مقام کو گزشتہ بارہ سالوں کے دوران ٹارچر سیل اور ڈیتھ اسکواڈ کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا، جہاں سے درجنوں بے گناہ بلوچ شہریوں، طلباء اور سیاسی کارکنوں کو جبری طور پر لاپتہ کر کے ملٹری کیمپوں کے حوالے کیا گیا یا بلاواسطہ قتل کر دیا گیا۔ ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ سردار عزیز نے بلوچ قومی تحریکِ آزادی کو نقصان پہنچانے اور قابض فوج کے ساتھ وفاداری نبھانے کے عوض علاقے میں خوف اور بربریت کا راج قائم کر رکھا تھا۔
سال 2014 میں جب قابض فوج بلوچ قومی آزادی کی تحریک کو عسکری محاذ پر شکست دینے میں مکمل ناکام ہوئی، تو اس نے خطے میں فرقہ واریت اور مذہبی شدت پسندی کا کارڈ کھیلنے کی پالیسی اپنائی۔ اسی ریاستی منصوبے کے تحت قابض فوج نے سردار عزیز کی مکمل سرپرستی شروع کی اور اسے فنڈنگ اور اسلحہ فراہم کر کے ایک منظم ڈیتھ اسکواڈ تشکیل دیا گیا جس کا مقصد خطے میں قوم دوستی اور فرقہ وارانہ یکجہتی کے ماحول کو خراب کرنا اور مذہبی شدت پسندی کو فروغ دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس ڈیتھ اسکواڈ نے قابض فوج کی ایماء پر ذکری فرقے سے وابستہ زائرین اور معصوم بلوچ عوام کی گاڑیوں پر حملے کیے، جن کے نتیجے میں متعدد بے گناہ افراد شہید ہوئے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ملزم سردار عزیز اور اس کے کارندے بلوچ شہریوں کو اغوا کر کے اپنے اڈے پر لاتے، انتہائی سفاکی سے ذبح کرتے اور لاشیں سڑکوں پر پھینک کر اسے لشکرِ خراسان اور داعش جیسے بین الاقوامی و علاقائی مذہبی شدت پسند گروہوں کے نام سے قبول کرتے رہے ہیں۔ اس گھناؤنے عمل کے ذریعے ریاست اور اس کے مقامی گماشتوں نے بلوچ تحریک کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔ بلوچ سرمچاروں نے ماضی میں بھی اس بدنامِ زمانہ ڈیتھ اسکواڈ اور اس کے اڈوں کو متعدد بار نشانہ بنایا ہے جس میں ان کے کئی اہم کارندے ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ 28 جولائی کو کیے گئے اس کامیاب آپریشن کا بنیادی ہدف ڈیتھ اسکواڈ کا سینیئر کمانڈر اور سردار عزیز کا بیٹا شاہ بیک عزیز تھا جو اپنے والد کی طرح قابض فوج کی سرپرستی میں بلوچ کش کارروائیوں میں پیش پیش تھا۔ مستعد سرمچاروں نے اس کے اڈے پر مربوط حملہ کر کے اسے اس کے مسلح ساتھیوں سمیت گھیر لیا اور موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ اس معرکے اور کامیاب آپریشن کے نتیجے میں ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ کا بیٹا شاہ بیک عزیز، امان اللہ ولد شیر محمد اور الطاف حسین ولد مراد سمیت مجموعی طور پر ڈیتھ اسکواڈ کے 7 کارندے ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کا ٹھکانہ اور ناکہ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ کارروائی کے تمام متعین مقاصد کامیابی سے حاصل کرنے کے بعد ہمارے سرمچار بحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ سوراب، خضدار، تربت، ہیرونک اور پیدارک میں کی جانے والی ان تمام 8 مختلف کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔













































