کتاب: تعلیم اور سماجی نظام – ریویو (حصہ اول): قمبر بلوچ

0

کتاب: تعلیم اور سماجی نظام

مصنف: برٹرینڈ رسل

ریویو: قمبر بلوچ
(حصہ اول)

دی بلوچستان پوسٹ

برٹرینڈ رسل کی کتاب “تعلیم اور سماجی نظام” کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ صرف تعلیم پر لکھی گئی کتاب نہیں بلکہ انسان، معاشرہ، ریاست اور تہذیب کے باہمی تعلق کا ایک گہرا فلسفیانہ مطالعہ ہے۔ رسل تعلیم کو محض معلومات منتقل کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھتا بلکہ اس کے نزدیک تعلیم وہ قوت ہے جو انسان کی شخصیت، اس کی سوچ، اخلاق، سماجی رویوں اور مستقبل کے معاشرے کی تشکیل کرتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ کتاب کے آغاز سے آخر تک ایک بنیادی سوال کے گرد اپنی پوری بحث قائم کرتا ہے کہ کیا ایسا تعلیمی نظام ممکن ہے جو انسان کی انفرادی آزادی کو بھی محفوظ رکھے اور اسے ایک ذمہ دار شہری بھی بنائے؟ رسل کا جواب یہ ہے کہ یہ ممکن ضرور ہے، لیکن اس کے لیے تعلیم کو ہر اس اثر سے آزاد کرنا ہوگا جو انسان کی آزاد فکر کو محدود کرتا ہے۔

رسل کے نزدیک تعلیم کا اصل مقصد صرف پڑھا لکھا انسان پیدا کرنا نہیں بلکہ ایسا انسان تیار کرنا ہے جو اپنی عقل استعمال کر سکے، سوال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، سچائی کی تلاش سے محبت کرتا ہو اور دوسروں کے ساتھ انصاف اور تعاون کے جذبے سے زندگی گزار سکے۔ وہ بار بار اس بات پر زور دیتا ہے کہ اگر تعلیم صرف ریاست، مذہب، طبقے یا کسی مخصوص گروہ کے مفادات کی خدمت کرنے لگے تو وہ اپنی اصل روح کھو دیتی ہے۔ اس صورت میں طالب علم آزاد شخصیت کے بجائے ایک ایسا فرد بن جاتا ہے جو دوسروں کے خیالات دہراتا ہے اور اپنی رائے قائم کرنے کی صلاحیت آہستہ آہستہ کھو دیتا ہے۔

کتاب کا ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انسان کی شخصیت صرف اس کی فطری صلاحیتوں سے تشکیل نہیں پاتی بلکہ اس ماحول سے بنتی ہے جس میں وہ پرورش پاتا ہے۔ گھر، سکول، دوست، ہم جماعت اور پورا معاشرتی ماحول مل کر اس کی سوچ اور کردار کو تشکیل دیتے ہیں۔ رسل خاص طور پر سکول کے ماحول کو بہت اہمیت دیتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک بچہ پہلی مرتبہ وہیں اپنے جیسے دوسرے بچوں کے درمیان زندگی گزارنا سیکھتا ہے۔ وہیں اسے قبولیت، مخالفت، عزت، ذلت، تعاون اور مقابلے کے تجربات حاصل ہوتے ہیں۔ یہی تجربات آگے چل کر اس کی شخصیت کی بنیاد بن جاتے ہیں۔

اسی سلسلے میں رسل گروہی دباؤ کو نہایت اہم نفسیاتی حقیقت قرار دیتا ہے۔ اس کے مطابق ہر انسان کے اندر یہ خواہش موجود ہوتی ہے کہ وہ اپنے گروہ میں قبول کیا جائے اور دوسروں سے الگ نہ ہو۔ اگر یہ احساس متوازن ہو تو انسان معاشرتی زندگی سیکھ لیتا ہے، لیکن اگر یہی دباؤ حد سے بڑھ جائے تو انسان اپنی آزاد سوچ کھو دیتا ہے اور صرف اس لیے دوسروں کی پیروی کرنے لگتا ہے کہ کہیں وہ گروہ سے الگ نہ ہو جائے۔ رسل کے نزدیک یہی کیفیت بعد میں مذہبی تعصب، سیاسی اندھی وفاداری اور قوم پرستی جیسی ذہنی حالتوں کو بھی جنم دیتی ہے۔

اسی تناظر میں رسل گھر اور سکول کے درمیان ہم آہنگی کو بھی ضروری سمجھتا ہے۔ اگر گھر ایک قسم کی اقدار سکھائے اور سکول اس کے برعکس ماحول فراہم کرے تو بچے کے اندر نفسیاتی کشمکش پیدا ہوتی ہے۔ اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے وہ یہودی بچوں کی مثال دیتا ہے۔ گھر میں انہیں اپنی شناخت پر فخر کرنا سکھایا جاتا تھا، جبکہ سکول میں اسی شناخت کی وجہ سے انہیں دوسروں سے مختلف اور کمتر محسوس کرایا جاتا تھا۔ رسل کے مطابق اس قسم کا تضاد شخصیت میں عدم اعتماد، احساسِ محرومی اور ذہنی تناؤ پیدا کرتا ہے۔

اسی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے رسل بچپن کے تجربات کی غیر معمولی اہمیت بیان کرتا ہے۔ اس کے نزدیک بچپن میں ملنے والی عزت یا ذلت انسان کی پوری زندگی پر اثر ڈال سکتی ہے۔ وہ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے مختلف تاریخی شخصیات کی مثالیں دیتا ہے۔ کارل مارکس اور ڈزریلی دونوں نے محرومی اور مشکلات کا سامنا کیا، لیکن ان کے ردِعمل ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ مارکس نے موجودہ سماجی نظام پر تنقید کرتے ہوئے انقلابی فکر اختیار کی، جبکہ ڈزریلی نے اسی نظام کے اندر رہ کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی۔ رسل کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ایک ہی قسم کا تجربہ ہر انسان میں ایک جیسا نتیجہ پیدا نہیں کرتا، بلکہ شخصیت اور حالات کے فرق سے ردِعمل بھی مختلف ہو سکتا ہے۔

اسی طرح وہ نپولین کی مثال دیتے ہوئے یہ رائے پیش کرتا ہے کہ بچپن میں غربت اور ذلت کے تجربات نے شاید اس کے اندر عظمت اور اقتدار کی شدید خواہش پیدا کی۔ دوسری طرف سکندر اعظم کی مثال سے وہ یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ جو انسان کبھی عام سماجی دباؤ کا سامنا نہیں کرتا، وہ دوسروں کے احساسات اور حقوق کی اہمیت کو پوری طرح محسوس نہیں کر پاتا۔ یہ مثالیں تاریخی فیصلے کے طور پر نہیں بلکہ انسانی نفسیات کے اصولوں کو واضح کرنے کے لیے پیش کی گئی ہیں۔

رسل کے نزدیک اگر تعلیم انسان کی شخصیت کی تعمیر کرتی ہے تو اس کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ خوف کے بجائے اعتماد پیدا کرے، ذلت کے بجائے احترام دے اور اندھی اطاعت کے بجائے خود اعتمادی کو فروغ دے۔ اسی لیے وہ آزاد تعلیم کی حمایت کرتا ہے۔ اس کے نزدیک آزاد تعلیم کا مطلب بے قیدی یا نظم سے انکار نہیں بلکہ ایسا ماحول ہے جہاں طالب علم سوال پوچھ سکے، اختلاف کر سکے، دلیل پیش کر سکے اور پھر بھی احترام اور شائستگی کے ساتھ دوسروں کے ساتھ رہنا سیکھے۔ رسل کا یقین ہے کہ جو معاشرہ آزاد فکر رکھنے والے افراد پیدا کرتا ہے، وہی حقیقی ترقی کر سکتا ہے، کیونکہ نئی سوچ ہمیشہ انہی لوگوں سے جنم لیتی ہے جو روایت سے آگے بڑھ کر حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔