خاران میں آج دوسرے روز بھی مرکزی شاہراہوں پر مسلح افراد کا کنٹرول برقرار ہے، فورسز کیساتھ شدید نوعیت کے جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔
خاران کے علاقے ساراوان (خاران – کراچی شاہراہ) اور نوروز قلات (خاران – کوئٹہ شاہراہ) آج دوسرے روز بھی مسلح افراد کا کنٹرول برقرار ہے جبکہ زاروزئی کے علاقے کو بھی مسلح افراد نے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
آج صبح ساراوان کے علاقے میں پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپیں ہوئی جو تاحال جاری ہے تاہم نقصانات کے حوالے سے تاحال کوئی تفصیلات نہیں مل سکی ہے۔
خیال رہے گذشتہ ساراوان شاہراہ پر دو پلوں کو بھی دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کیا گیا۔
ان کاروائیوں کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی قائم ہے تاہم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے خاران سمیت بلوچستان کے مختلف مرکزی شاہراہوں پر ناکہ بندیوں اور معدنیات و دیگر گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی ذمہ داریاں قبول کی جاچکی ہے۔ بی ایل اے ترجمان جیئند بلوچ نے انہیں ‘معاشی ناکہ بندی’ کہا ہے۔

















































