خاران اور تمپ، پولیس تھانوں پر قبضہ، پولیس سےاسلحہ ضبط اور فوجی پوسٹس کو حملوں کا نشانہ بنائے۔ میجر گہرام بلوچ

1

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان بی ایل ایف کےبسرمچاروں نے یکم اگست 2026 کو رخشان ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر، خاران شہر کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے پورے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا۔

ترجمان نے سرمچاروں کے پہلے دستے نے خاران شہر کے تمام مرکزی اور اہم مقامات پر ناکہ بندی کر کے شہر کا مکمل محاصرہ کیا۔ جس کے بعد سرمچاروں کے دوسرے دستوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے شہر کے وسط میں قائم سٹی پولیس اسٹیشن اور سی ٹی ڈی (CTD) کے تھانے کا گھیراؤ کر کے ان پر قبضہ کر لیا اور وہاں موجود تمام پولیس اہلکاروں کو تحویل میں لے لیا۔ سرمچاروں نے تھانوں میں موجود 8 کلاشنکوف اور دیگر عسکری سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیں، جس کے بعد سی ٹی ڈی تھانے کا تمام تر ریکارڈ نذرِ آتش کر کے تباہ کر دیا گیا۔ تحویل میں لیے گئے اہلکاروں کے خلاف بلوچ نسل کشی میں براہِ راست ملوث ہونے کے ثبوت و شواہد نہ ملنے کی بنا پر انھیں تنبیہ کر کے بحفاظت رہا کر دیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ دو گھنٹوں تک خاران شہر مکمل طور پر سرمچاروں کے کنٹرول میں رہا، جس کے دوران قابض فوج اپنے کیمپوں اور بیرکوں تک ہی محدود رہی اور پیش قدمی  نہ کر سکی۔ کارروائی کے تمام متعین مقاصد کامیابی سے حاصل کرنے کے بعد طے شدہ منصوبے کے مطابق تمام سرمچار بحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں کی طرف روانہ ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ سرمچاروں کے نکلنے کے بعد حواس باختہ قابض فورسز نے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے حسبِ معمول عام بلوچ آبادیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی اور مارٹر گولے داغے۔ علاوہ ازیں، کواڈ کاپٹر کے ذریعے بھی بلوچ شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس بربریت کے نتیجے میں محبوب علی ملنگزئی نامی شخص کے گھر پر کواڈ کاپٹر سے گرائے گئے گولے کے باعث 4 خواتین اور 1 بچے سمیت 6 افراد شدید زخمی ہو گئے۔

ترجمان نے کہا کہ بی ایل ایف واضح کرتی ہے کہ قابض فورسز اپنی حواس باختگی اور ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے سرمچاروں کو نقصان پہنچانے کے لئے بے بنیاد الزام تراشی کر کے محبوب علی کے گھر پر کیے گئے اپنے کواڈ کاپٹر حملے کو سرمچاروں سے جوڑنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں۔ ہمارے تمام سرمچار کارروائی کے بعد بحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے ایک اور کارروائی میں 31 جولائی 2026 کو تمپ کے علاقے قلات میں واقع قابض پاکستانی فوج کی ایک اور چیک پوسٹ پر بھی گرنیڈ لانچرز سے حملہ کرکے اس پر متعدد گولے داغے جو درست اہداف پر جا لگے۔ حملے کے بعد جب قابض فوج نے سرمچاروں کا تعاقب کرنے کی کوشش کی تو دازن اور گومازی کے درمیانی علاقے میں راستے پر  پہلے سے گھات لگائے مستعد سرمچاروں نے قابض فوج کے اہلکاروں پر حملہ کرکے انھیں نشانہ بنایا۔ جس کے بعد قابض فوج علاقے سے پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کو مزید جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 30 جولائی 2026 کو خاران کے علاقے گواش میں سی پیک روڈ پر ایک موثر کارروائی کرتے ہوئے استحصالی کمپنی کی دو گاڑیوں کو نذرِ آتش کر کے تباہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسی روز 30 جولائی 2026 کو ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے تمپ کے علاقے ملانٹ میں قائم قابض پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ حملے کا نشانہ بنایا۔ داغے گئے گولے درستگی کے ساتھ اپنے اہداف پر جا لگے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ خاران اور تمپ میں متذکرہ بالا تمام کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔