بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 22 جون 2026 کو تنظیم کے خفیہ ونگ کی اطلاع پر بارکھان کے علاقے تکھڑا ونگہ ٹک کے مقام پر ایک انتہائی منظم اور مربوط کارروائی کرتے ہوئے قابض پاکستانی فوج اور ڈی سی بارکھان کے مشترکہ قافلے کو گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہاکہ دشمن کے نقل و حرکت کی خفیہ اطلاع ملتے ہی سرمچاروں کے دستے مذکورہ مقام پر پہنچ کر پوزیشنیں سنبھال لیں۔ جیسے ہی دشمن کا 8 گاڑیوں اور 20 موٹرسائیکلوں پر مشتمل طویل قافلہ سرمچاروں کی ہدف پر آگیا، پہلے سے گھات لگائے سرمچاروں کے مستعد دستوں نے چاروں اطراف سے دشمن پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔ حملے کی زد میں آ کر ڈی ایس پی بارکھان کی گاڑی ناکارہ ہو گئی۔ سرمچاروں نے براہِ راست اور مؤثر ترین حملہ کرتے ہوئے فرنٹ لائن پر موجود فرنٹیر کور (ایف سی) کی گاڑیوں کو کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دشمن کے 6 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
ترجمان نے کہاکہ دوران کارروائی سرمچاروں نے پولیس فورس کے مقامی بلوچ اہلکاروں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے میدانِ جنگ سے دور رہنے کا حکم دیا۔ سرمچاروں نے تنظیم کی طے شدہ جنگی اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے پولیس زیادہ نقصان پہنچانے سے گریز کیا اور اپنا تمام توجہ قابض فوج پر مرکوز رکھا۔ سرمچاروں کے اس حملے کے بعد دشمن فوج حواس باختہ ہو کر اپنی گاڑیاں سڑک پر چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئی اور خوف کے مارے تقریباً 3 گھنٹوں تک قریبی کھائیوں اور اوٹوں میں چھپی رہی۔
انہوں نے کہاکہ اس کامیاب حملے کے بعد صورتحال پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے سرمچار کافی دیر تک جائے وقوعہ پر موجود رہے اور وہاں سے گزرنے والے مقامی بلوچ شہریوں کو متبادل راستوں کی طرف رہنمائی کرتے رہے۔ اس دوران سرمچاروں نے سڑک پر قائم پل کو پہلے سے نصب شدہ آئی ای ڈی (IED) دھماکے کے ساتھ اڑا کر تباہ کر دیا۔ اس دھماکے کی زد میں آ کر موٹر سائیکلوں پر سوار قابض فوج کے مزید 2 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ اس پوری کارروائی میں دشمن کے مجموعی طور پر 8 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ کامیاب کارروائی کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد سرمچاروں کے تمام دستے بحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
مزید کہاکہ بی ایل ایف پولیس اور لیویز میں شامل مقامی بلوچ اہلکاروں کو ایک پھر تنبیہ کرتی ہے کہ وہ قومی آزادی کی اس جنگ میں قابض پاکستانی فوج کا آلہ کار بننے سے باز رہیں۔ آئندہ کسی بھی کارروائی یا گشت کے دوران مقامی پولیس فورسز قابض فوج کے ہمراہ، یا ان کی سہولت کاری کرے نظر آئے تو انہیں دشمن فوج کا حصہ تصور کرتے ہوئے نشانہ بنایا جائے گا اور ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے ایک اور کارروائی میں 22 جون 2026 کو تمپ کے علاقے بالیچہ میں قابض پاکستانی فوج کی ایک چیک پوسٹ کو گرنیڈ لانچروں سے نشانہ بنایا۔ اس اچانک حملے کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔حملے کے فوراً بعد فوجی گاڑیوں پر مشتمل دشمن کے ایک کُمکی قافلے نے سرمچاروں کا تعاقب کرنے کی کوشش کی، تاہم پہلے سے گھات لگائے مستعد سرمچاروں نے تعاقب میں آنے والے قافلے کی گاڑیوں پر انتہائی قریب سے حملہ کر دیا۔ اس جوابی کارروائی میں قابض فوج کے چار اہلکار زخمی ہوئے، جس کے بعد دشمن فوج مزید پیش قدمی کے بجائے حواس باختہ ہو کر پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی۔
ترجمان نے کہاکہ ایک کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 15 جون 2026 کو دشت کے علاقے تیرامیل میں سخت ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی تلاشی کا عمل شروع کیا۔ ناکہ بندی کے دوران مچھ میں قائم گیس کمپنی کے سیکیورٹی گارڈز کی ایک گاڑی کو روک کر تلاشی لی گئی اور اس میں سوار مسلح اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا۔ سرمچاروں نے ان کے قبضے سے 4 کلاشنکوف ضبط کر لیا، جس کے بعد تمام زیرِ حراست اہلکاروں کو تنظیمی پالیسی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا گیا۔
آخر میں کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ بارکھان میں قابض فوج اور سول انتظامیہ کے مشترکہ قافلے پر حملے میں 8 اہلکاروں کی ہلاکت، متعدد کے زخمی ہونے، عسکری گاڑیوں کی تباہی اور پل کو ناکارہ بنانے سمیت، تمپ کے علاقے بالیچہ میں قابض فوج کی چیک پوسٹ اور کُمکی قافلے کو نشانہ بنانے، اور دشت میں ناکہ بندی اور ادلحہ ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔














































