بی وائی سی رہنماؤں کے خلاف فیصلہ منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کے منافی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل

0

ایمنسٹی نے کہا ہے پاکستان میں انسداد دہشت گردی قوانین کا استعمال پُرامن اختلاف رائے کو دبانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنانے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے منصفانہ ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

جنوبی ایشیا کے لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی قائم مقام علاقائی ڈائریکٹر ازابیل لاسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے قوانین کو پُرامن اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ سزا اور فیصلہ ایک تیز رفتار خفیہ عدالتی کارروائی کے بعد سنایا گیا، جو جیل کے احاطے میں منعقد ہوئی، جہاں بین الاقوامی معیار کے مطابق منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کے حوالے سے سنگین خدشات سامنے آئے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو مبینہ تشدد سے جوڑنے کے لیے کوئی براہِ راست ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو مارچ 2025 میں ایک پُرامن دھرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کے دو درجن سے زائد مقدمات قائم کیے گئے۔ تنظیم کے مطابق مقدمات کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ان کے وکلا کے لیے ان کا مکمل ریکارڈ رکھنا بھی مشکل ہو گیا، جس کے باعث مؤثر قانونی دفاع فراہم کرنا ممکن نہ رہا۔

ازابیل لاسی نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو صرف ان کی انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں فوری طور پر رہا کرتے ہوئے ان کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں سے متعلق تمام مقدمات ختم کیے جانے چاہئیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اراکین ہیں، جو بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور معاشی ناانصافی کے خاتمے کے لیے سرگرم ایک پُرامن شہری حقوق کی تحریک ہے، مارچ 2025 میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد دونوں رہنماؤں سمیت دیگر بلوچ کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔

تنظیم کے مطابق 22 جون کو کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو جولائی 2024 میں بلوچ راجی مُچی کے دوران فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک اہلکار کے مبینہ قتل کے الزام میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔

بیان میں کہا گیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ نے منصفانہ ٹرائل کے حق سے مسلسل محرومی اور جج کے مبینہ جانبدارانہ رویے کے باعث عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا، بعد کے مراحل میں ان کی نمائندگی سرکاری طور پر مقرر کیے گئے وکیل نے کی، جس نے ان سے مشاورت نہیں کی، جبکہ انہیں صرف ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی میں شریک ہونے کا اختیار دیا گیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق فیصلے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ایک عوامی اجتماع میں شرکت، مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کرنے اور ریاستی اہلکاروں کو “قابض” قرار دینے کی بنیاد پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا محض تقریر کسی قتل یا دہشت گردی کے جرم کی حد پر پورا اترتی ہے یا نہیں، جبکہ شاہ جی صبغت اللہ پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اس ہجوم کا حصہ تھے جس نے ایف سی اہلکار پر حملہ کیا تھا۔

تنظیم نے مزید کہا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران کم از کم تین بلوچ مظاہرین ہلاک ہوئے تھے، تاہم ان ہلاکتوں کے سلسلے میں تاحال کسی فرد کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔