بلوچستان میں عدم تحفظ کا شکار، کارگو سپلائی بند کریں گے – کارگو ٹرانسپورٹرز

35

آل بلوچستان گڈز ٹرک ٹرانسپورٹ کمپنیز ایسوسی ایشن رجسٹرڈ کے صدر نور احمد کاکڑ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مال بردار ٹرکوںپر فائرنگ، جلانے اور ڈرائیوں کو زخمی کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے 10 جون تک متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی یقینی نہ بنائی گئی کوئٹہ تفتان قومی شاہراہ پر کارگو سپلائی نہیں کریں گے۔ اگر ہمارے مسائل حل نہ کئے گئے تو ہم باہمی مشاورت سے احتجاجی لائحہ عمل اپناتے ہوئے احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر بشیر احمد حلیمی، حاجی ملک شاہ جمالدینی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مال بردار ٹرکوں کو جلانا فائرنگ کرکے ڈرائیوروں کو زخمی کیا جارہا ہے، عید سے قبل لورالائی، ہرنائی روڈ پر اسی طرح کوئٹہ تفتان شاہراہ پر واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں بڑھتی ہوئی لاقانونیت کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز عدم تحفظ کا شکار ہے حکومت اور انتظامیہ ان کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام نظر آرہی ہے اس لئے ہم بلوچستان میں کارگو سروس بند کرکے ملک کے دوسرے صوبوں میں اپنا روزگار تلاش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرکوں کو پہنچنے والے نقصان اور ڈرائیوروں کو زخمی کرنے پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جارہی نہ ہی متاثرین کو تحفظ اور ان کے نقصانات کا معاوضہ دیا جارہا ہے جس کی وجہ سے اب ہم ٹرک کو کلیم دینے کی گارنٹی کے بغیر کارگو سروس جاری نہیں رکھیں گے۔ تفتان روٹ کے علاوہ باقی تمام علاقوں سے لوڈنگ ان لوڈنگ جاری ہے اگر حکومت نے دس جون تک کلیم کی ادائیگی نہ کی تو ہم سپلائی بند کرکے احتجاجی لائحہ عمل اپنائیں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

خیال رہے اس سے قبل معدنیات لیجانے والی ٹرانسپورٹرز نے بلوچستان میں لوڈنگ غیر معینہ مدت کیلئے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

 بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن اور آل بلوچستان منی مزدا گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں اور ٹرک مالکان کا کہنا تھا کہ حالیہ حملوں میں درجنوں ٹرکوں کو نقصان پہنچایا گیا، جس کے باعث معدنیات کی ترسیل میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

واضح رہے اہم شاہراہ  کوئٹہ – تفتان روٹ پر گذشتہ مہینے سے معدنیات لیجانے والی گاڑیوں سمیت دیگر گاڑیوں پر حملوں کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔

مذکورہ واقعات کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچ وسائل کی لوٹ مار میں ملوث گاڑیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان جیئند بلوچ نے کہا کہ کوئٹہ–تفتان مرکزی شاہراہ پر بی ایل اے اب مکمل کنٹرول حاصل کرچکی ہے اور یہ پوری شاہراہ اب بی ایل اے کے زیرِ کنٹرول خطے کا حصہ ہے۔ ہم اب کسی بھی صورت بلوچ وسائل اور معدنیات کو لوٹ کر لے جانے والے گاڑیوں کے ٹرکوں، ٹریلرز یا کسی بھی قسم کے قافلوں کو یہاں سے گزرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

گذشتہ روز پنجگور – چیدگی روٹ پر بھی مسلح افراد کا کنٹرول برقرار رہا۔ مذکورہ روٹ پر کم از کم چھ بڑی گاڑیوں کو مسلح افراد نے حملوں میں نقصان پہنچایا جس کے بعد بڑی گاڑیوں کی آمد و رفت بند ہوگئی۔