پاکستانی اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق بلوچستان سب سے غریب خطہ بن چکا ہے جہاں غربت کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ کر 47 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
سروے کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تقریباً ہر دو میں سے ایک بلوچ شہری خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی غربت کی بڑی وجوہات میں بدعنوانی، ناقص طرز حکمرانی (بیڈ گورننس)، ترقیاتی منصوبوں میں عدم شفافیت، روزگار کے مواقع کی کمی اور ایران و افغانستان کے ساتھ روایتی سرحدی تجارت پر عائد پابندیاں شامل ہیں۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے ہزاروں خاندان برسوں سے چھوٹے پیمانے کی سرحدی تجارت پر انحصار کرتے رہے ہیں، تاہم مختلف پابندیوں اور سرحدی راستوں کی بندش کے باعث ان کی آمدنی کے ذرائع شدید متاثر ہوئے ہیں۔
بلوچستان کے کئی اضلاع میں عوام پہلے ہی بنیادی سہولیات، صحت، تعلیم اور صاف پانی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے اور بہت سے خاندان غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان بھر میں غربت کی شرح 28.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے، تاہم بلوچستان میں یہ شرح قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر بلوچستان میں پائیدار روزگار کے مواقع پیدا نہ کیے گئے، سرحدی تجارت کو بحال نہ کیا گیا اور عوامی وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی نہ بنایا گیا تو غربت اور معاشی محرومی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
خیال رہےکہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے اثرات حالیہ واقعات میں بھی نمایاں نظر آ رہے ہیں۔ بلوچستان کے قدرتی وسائل سے مالا مال ضلع ڈیرہ بگٹی میں گزشتہ روز ایک شخص نے بے روزگاری اور معاشی مشکلات سے تنگ آکر خودکشی کی کوشش کی، جبکہ آج کوئٹہ میں ایک نوجوان نے روزگار نہ ملنے پر احتجاجاً اپنی تعلیمی اسناد نذرِ آتش کر دیں۔ یہ واقعات بلوچستان میں بڑھتی ہوئی مایوسی، بے روزگاری اور معاشی بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔


















































