کشمیر کے عوام اپنی تاریخی حیثیت، قومی شناخت اور اجتماعی بقا کے تحفظ کے لیے ڈٹے رہیں۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ

19

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اپنے ایک بیان میں پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں عوامی تحریک کے مظاہرین کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کی جاری کریک ڈائون اور قتل عام پرکشمیریوں کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے عوام اپنی تاریخی حیثیت، قومی شناخت اور اجتماعی بقا کے تحفظ کے لیے ڈٹے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام آج جس ظلم، تشدد اور ریاستی طاقت کے جبر کا سامنا کر رہے ہیں، وہ ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 1948 سے بلوچ قوم اسی قسم کے مظالم، فوجی جارحیت، سیاسی جبر، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو برداشت کر رہی ہے۔ اس لیے ہم کشمیری عوام کے درد، تکالیف اور محرومی کے احساس کو کسی بھی دوسرے سے بہتر سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ کا کہنا تھا کہ میں کشمیر کے عوام سے کہنا چاہوں گا کہ وہ اپنی تاریخی حیثیت، قومی شناخت اور اجتماعی بقا کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے ڈٹے رہیں۔ پاکستانی ریاست اور اس کے فوجی مقتدرہ (اسٹیبلشمنٹ) کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے کبھی بھی کسی مظلوم قوم کے جائز سیاسی، قومی اور انسانی حقوق کو رضاکارانہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ آج کشمیر میں عوامی آوازوں کو بے رحمی سے دبانا، گرفتاریاں اور طاقت کے بل بوتے پر سیاسی مطالبات کو کچلنے کی کوششیں پوری دنیا کے سامنے عیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک مذاکرات، معاہدوں اور ریاستی وعدوں کا تعلق ہے، تو اس معاملے میں بلوچ قوم کا تجربہ انتہائی تلخ رہا ہے۔ ہمیں قرآنِ پاک پر کھائی جانے والی قسموں اور وعدوں کے ذریعے دھوکہ دیا گیا۔ شہید نواب نوروز خان، شہید آغا عبدالکریم، شہید نواب اکبر خان بگٹی اور دیگر بلوچ رہنماؤں کے ساتھ کیے گئے معاہدے اور بعد میں ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ حقائق بلوچ قوم کے اجتماعی حافظے میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

بی این ایم چیئرمین نے کہا کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ کشمیری عوام کو اپنی آزادی، قومی شناخت، سیاسی حقوق اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔ قومی شناخت اور قومی وقار کا تحفظ نہ صرف کسی قوم کی بقا کی ضمانت ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بھی ہے۔ جب تک اقوام کے بنیادی حقوق کو تسلیم نہیں کیا جاتا، امن اور استحکام محض ایک خواب ہی رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک مظلوم قوم ہونے کے ناطے، بلوچ عوام کشمیری عوام کی تکالیف اور جدوجہد کو اپنے بہت قریب محسوس کرتے ہیں۔ ہم کشمیر کے عوام کے قومی اور انسانی حقوق کی حمایت کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ بلوچ عوام ان کے ساتھ اپنی اخلاقی اور سیاسی یکجہتی کا اظہار جاری رکھیں گے۔

بلوچ رہنما کا کہنا تھا کہ قومی بقا، آزادی اور حقِ خودارادیت ہر قوم کا بنیادی اور فطری حق ہے۔ کوئی بھی طاقت کسی قوم کو مستقل طور پر اس حق سے محروم نہیں رکھ سکتی۔ ہم ایک قوم کے طور پر تب ہی بقا پا سکتے ہیں جب ہمیں پاکستان سے نجات مل جائے۔