کراچی کے علاقے ماری پور سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 10 افراد کو حراست میں لیے جانے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں بلوچ اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی (بساک) کے سابق چیئرمین شبیر بلوچ کے بھائی خالد بلوچ بھی شامل ہیں۔
حراست میں لیے گئے دیگر افراد کی شناخت سورج، شہباز، شاہجان شفیع، سخی، عامر، سمیر اللہ بخش، عامر واحد، عزیز نور داد اور صابر عزیز کے ناموں سے ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد کو کراچی کے علاقے ماری پور سے ایک ہفتے کے دوران مختلف کارروائیوں میں حراست میں لیا گیا۔ تاہم ان افراد کی گرفتاری یا موجودہ مقام کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی واضح تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق کراچی کے بعض بلوچ اکثریتی علاقوں میں گزشتہ ایک ماہ سے آپریشن جاری ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رات کے اوقات میں رینجرز اور خفیہ اداروں کی جانب سے علاقوں کو گھیرے میں لے کر تلاشی اور گرفتاریوں کی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔











































