اوستہ محمد: غیرت کے نام پر خاتون سمیت دو افراد قتل

21

اوستہ محمد میں خاتون سمیت دو افراد کے قتل کا واقعہ، علاقے میں غیرت کے نام پر قتل کا تسلسل جاری۔

اوستہ محمد میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے ایک خاتون سمیت دو افراد جانبحق ہوگئے، پولیس کے مطابق واقعہ سٹی تھانے کی حدود میں کھوکھر لاڑو کے مقام پر پیش آیا، جہاں مسلح افراد اندھا دھند فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جانبحق ہونے والے دونوں افراد کی عمریں 20 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔

لاشوں کو ہسپتال منتقل کرکے قانونی کارروائی کے بعد شناخت کے لیے مردہ خانے میں رکھ دیا گیا ہے، جبکہ مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔

پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ واقعہ غیرت کے نام پر قتل کا ہوسکتا ہے۔

یاد رہے کہ اوستہ محمد اور نصیرآباد ڈویژن کے دیگر اضلاع میں ماضی میں بھی غیرت کے نام پر قتل کے متعدد واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2024 کے درمیان بلوچستان میں کم از کم 212 افراد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ نصیرآباد اور جعفرآباد ان اضلاع میں شامل ہیں جہاں ایسے واقعات کی تعداد نسبتاً زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جعفرآباد میں اسی عرصے کے دوران 23 افراد غیرت کے نام پر قتل کیے گئے تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد اور غیرت کے نام پر قتل کے واقعات ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکے ہیں، جس کے تدارک کے لیے مؤثر قانونی کارروائی اور متاثرین کے تحفظ کے اقدامات ناگزیر ہیں۔