اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر بحث کے دوران پاکستان اور انڈیا کے نمائندوں کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہوا، جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام سے متعلق الزامات عائد کیے۔
پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان میں انڈیا کی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے، جس کے لیے افغان سرزمین پر سرگرم بعض دہشت گرد گروہوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو انڈیا کی طالبان سے بڑھتی ہوئی قربت پر حیرت نہیں، کیونکہ یہ تبدیلی پاکستان کی کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی۔
پاکستان کی جانب سے ملک میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث شدت پسند گروہوں کو ’فتنہ الہندوستان‘ قرار دینے کے معاملے پر بھی دونوں ملکوں کے نمائندوں کے درمیان گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔
پاکستانی مندوب نے خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بی ایل اے انڈیا کی پراکسی تنظیم کے طور پر کام کرتی ہے اور مبینہ طور پر اس کی معاونت اور مالی مدد حاصل کرتی ہے۔
انڈین نمائندے نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانیہ سرکاری سرپرستی میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔
دوسری جانب افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کی سیکریٹری جنرل کی خصوصی نائب نمائندہ جارجیٹ گیگنن نے کہا کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے متعلق خدشات بدستور موجود ہیں اور اس مسئلے پر تعمیری مکالمہ ضروری ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال، دہشت گردی، انسانی بحران اور افغانستان کے مستقبل پر تفصیلی بحث ہوئی۔
اقوامِ متحدہ نے انسانی حقوق، خواتین کی تعلیم اور معاشی مشکلات پر تشویش ظاہر کی، جبکہ روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مسائل کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا۔

















































