کوئٹہ:وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6189ویں روز بھی جاری، جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ

1

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ اپنے 6189ویں روز بھی جاری رہا۔

اس دوران مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز گزشتہ سترہ برسوں سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کے حل کے لیے ایک طویل، پرامن اور آئینی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ ہر شہری کو قانون، آئین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق تحفظ اور انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کے تقاضوں سے بھی متصادم ہیں۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اگر کسی فرد پر کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور اسے منصفانہ قانونی کارروائی کا حق دیا جائے۔

نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ تمام جبری لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، ان کے اہلِ خانہ کو درپیش بے یقینی اور اذیت کا خاتمہ کیا جائے، اور تمام واقعات کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وی بی ایم پی اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھے گی اور امید رکھتی ہے کہ حکومت، عدلیہ، انسانی حقوق کے ادارے اور تمام متعلقہ فریقین اس انسانی مسئلے کے مستقل اور منصفانہ حل کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے۔