بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 25 مئی 2026 کو کیچ کے علاقے جوسک میں قائم ڈنگر تھانے کا محاصرہ کر کے اس پر حملہ کیا۔ سرمچاروں نے تھانے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہاں موجود پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا اور ان کے قبضے سے 7 سرکاری بندوقیں، میگزین اور دیگر عسکری سازوسامان ضبط کر لیا۔ بعد ازاں تفتیش مکمل ہونے کے بعد تمام پولیس اہلکاروں کو تنبیہ کرکے تنظیم کے اعلیٰ جنگی اصولوں اور انسانی ہمدردی کے تحت رہا کر دیا گیا۔ اس دوران سرمچاروں نے پولیس تھانے کے سامنے ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی اسنیپ چیکنگ بھی کی۔ ناکہ بندی کا مقصد علاقے میں اپنا عسکری کنٹرول برقرار رکھنا اور قابض فوج اور اس کے سہولت کاروں پر نظر رکھنا تھا۔
اس آپریشن کے دوران سرمچاروں کے دوسرے دستوں نے تھانے اور اس کے اطراف میں نصب نگرانی کے تمام کیمروں کو فائرنگ کر کے ناکارہ بنا دیا، جو قابض فوج کی جانب سے سرمچاروں کی نقل و حرکت، اور عوام کی نجی زندگی پر نظر رکھنے اور جاسوسی کے لیے لگائے گئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ دوسری طرف، سرمچاروں کے حفاظتی دستوں نے تربت شہر کے فوجی ہیڈ کوارٹر سے کمک کے لیے آنے والے قابض فوج کے ایک قافلے کو کیچ کور کے پل پر گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا۔ مستعد سرمچاروں نے قافلے کے پل پر پہنچتے ہی اس پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں پانچ فوجی اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے، جبکہ دو فوجی گاڑیاں حملے کی زد میں آنے سے ناکارہ ہو گئیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں بی ایل اایف کے سرمچاروں نے 27 مئی 2026 کو وندر کے علاقہ ڈام میں ایک تعمیراتی کمپنی کی سائٹ پر حملہ کر کے اس کی مشینری کو نذرِ آتش کر دیا۔ یہ تعمیراتی مشینری عسکری اور استحصالی مقاصد کی غرض سے زیر تعمیر پروجیکٹس کے لیے راستوں کی تعمیر میں مصروف تھی۔ بی ایل ایف پہلے بھی واضح کر چکی ہے کہ قابض فوج کی سرپرستی میں چلنے والے ایسے کسی بھی پروجیکٹ کی اجازت نہیں دی جائے گی جو بلوچ قوم کے وسائل کی استحصال اور فوجی مقاصد کے حصول میں دشمن کیلئے آسانی کا سبب بنے۔ ایسے استحصالی پروجیکٹس مستقل طور پر ہمارے نشانے پر ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کیچ، جوسک میں پولیس تھانے اور قابض پاکستانی فوج پر حملے، اسلحہ ضبط کرنے، اور وندر میں تعمیراتی کمپنی کے سائیٹ پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔














































