بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سپریم کمانڈر ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرفراز بگٹی اور اس قبیل کے لوگ بنگلہ دیشی کٹھ پتلیوں کے انجام سے سبق حاصل کریں۔ سرفراز بگٹی جیسے آلہ کاروں کو دنیا بھر میں قابضین آزما چکے ہیں۔ یہ وقتی طور پر قابض کے لیے مؤثّر ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن اپنے قوم و سماج میں ان جیسے کرداروں کے حصے میں صرف رسوائی ہی آئے گی۔ ان کی عوامی نمائندگی کا دعویٰ قابض فوج کی بیساکھیوں کے سہارے کھڑا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب یہ بیساکھیاں بلوچ قومی قوت کے زور سے ٹکڑے ٹکڑے ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ سرفراز بگٹی کی جانب سے بلوچ محققین، اساتذہ، پروفیسرز اور شاعروں کے بارے میں دیے گئے حالیہ بیانات، پاکستانی فوج اور ریاست کے اصل عزائم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ وہی عزائم ہیں جن پر پاکستان 1971ء میں بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی کے دوران عمل کر چکا ہے۔ پاکستانی فوج نے سینکڑوں بنگلہ دیشی دانشوروں، محققین اور اساتذہ کو قتل کیا تھا لیکن اس کے باوجود بنگلہ دیش نے آزادی حاصل کرلی۔ بنگلہ دیشی عوام اور اساتذہ کے خون کی بدولت آج بنگلہ دیش آزاد قوموں کی صف میں ایک باوقار ملک کی حیثیت سے کھڑا ہے، اور بنگالیوں کا یہ لہو آج بھی پنجابی حکمران طبقے کی گردن پر قرض ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ دانشوروں، پی ایچ ڈی اسکالرز، پروفیسروں اور شعراء کو ریاست کے لیے خطرہ قرار دینا اس بات کی گواہی ہے کہ بلوچ معاشرے میں قومی شعور اور سیاسی آگاہی بڑھ رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں تحریک آزادی سے بلوچ عوام کی وابستگی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے، اور بلوچ عوام و ریاستی بیانیے میں نا قابل عبور فاصلے پیدا ہو رہے ہیں۔ بلوچ قوم شعوری طور پر جہدِ آزادی کا حصہ بن رہی ہے جس سے ریاست سخت خوفزدہ ہے۔
ایک باشعور قوم ہمیشہ اپنے مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی شعور سے خائف ہو کر قابض ریاست اور اس کے کٹھ پتلی نمائندے بلوچ قوم کے تعلیم یافتہ اور باشعور طبقات کو نشانہ بنا کر ریاست کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن جب مزاحمت کسی سماج کے تمام طبقات میں سرایت کر جائے، تو کٹھ پتلیاں صرف تماشے کا نمونہ بن کر رہ جاتی ہیں، اور آج بلوچستان میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پے در پے ہونے والے واقعات، جن میں معروف مصنف و شاعر پروفیسر غمخوار حیات بلوچ کی ٹارگٹڈ کلنگ، اور بلوچ خاتون شاعرہ حبیبہ پیر جان کی جبری گمشدگی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ قابض ریاست نے بلوچستان میں فکری اور ادبی آوازوں کو منظم طریقے سے کچلنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، اور مستقبل میں بھی بلوچ قوم دوست و محب وطن اذہان کو نشانہ بنانے کا یہ عمل جاری رہے گا۔
ترجمان نے کہا کہ سرفراز بگٹی اور دیگر حکومتی نمائندوں کے بیانات اس منظم ریاستی فاشسٹ پالیسی کا حصہ ہیں جس کے تحت بلوچستان میں مزاحمتی آوازوں، اختلافِ رائے، علم و آگہی، فکری آزادی اور سیاسی شعور کو کچلا جا رہا ہے۔ تاہم یہ پالیسیاں بلوچ عوام کے عزم اور شعور کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کر کے تحریک کو ایندھن فراہم کرنے کا سبب بنیں گی، اور بلوچ قوم دوست و محب وطن اذہان کی فکری رہنمائی ہماری قومی تحریک آزادی کو یوں ہی توانا کرتی رہے گی۔













































