کاڈ: بلوچ مسلح تحریک میں خواتین کا بڑھتا کردار، سماجی اثرات اور عوامی حمایت – ٹی بی پی رپورٹ

1

کاڈ: بلوچ مسلح تحریک میں خواتین کا بڑھتا کردار، سماجی اثرات اور عوامی حمایت
 ٹی بی پی رپورٹ

تحریر آصف گچکی

22 ستمبر، بروز منگل، بلوچستان کے علاقے تربت میں پاکستانی نیم فوجی دستے فرنٹیئر کور (ایف سی) کی کوئیک رسپانس فورس (کیو آر ایف) کے ایک قافلے پر مسلح حملے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں ابتدائی طور پر اس واقعے کو ایک معمول کی مسلح کارروائی کے طور پر دیکھا گیا، تاہم حملے کے بعد مقامی سطح پر یہ اطلاعات گردش کرنے لگیں کہ اس کارروائی میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شریک تھی۔

شام کے وقت بلوچستان میں سرگرم مسلح تنظیموں میں سے ایک، بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا۔ تنظیم نے اپنے بیان میں ایک نئے یونٹ کی تشکیل کا بھی ذکر کیا، جس کا نام ’’کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن‘‘ بتایا گیا۔ اس نئے یونٹ کے لیے کاڈ (Kaad) کا مخفف استعمال کیا گیا ہے۔

بلوچی زبان میں ’’کاڈ‘‘ کے معنی نوجوان لڑکی کے ہیں۔ اس لفظ کے انتخاب، نئے یونٹ کے نام اور خواتین کی شرکت کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ اعلان علامتی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ تاہم، محض نام کے انتخاب سے تنظیم کے مقاصد، یونٹ کی عملی ساخت یا اس میں خواتین کی حقیقی تعداد کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

اس رپورٹ میں ہم ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے ساتھ یہ جاننے کی بھی کوشش کی جائے گی کہ بی ایل ایف نے اپنے نئے یونٹ کو جس خاتون سے منسوب کیا ہے، وہ کون تھیں، بلوچ سیاست میں ان کی کیا اہمیت ہے اور ان کی سیاسی جدوجہد کے بلوچ سماج اور قومی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ مزید برآں، بلوچ سیاست میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار، سیاسی و سماجی جدوجہد میں ان کی شرکت اور بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے میں ان کے اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

تصویر: آشوب میڈیا

کریمہ بلوچ کون تھیں؟

کریمہ بلوچ، المعروف بانک کریمہ، جنہیں کریمہ محراب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بلوچ سیاسی و انسانی حقوق کی سرگرم کارکن تھیں۔ وہ بلوچ طلبہ سیاست میں اس وقت نمایاں ہوئیں جب انہوں نے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور بعد ازاں تنظیم کی چیئرپرسن منتخب ہوئیں۔ وہ اس تنظیم کی پہلی خاتون چیئرپرسن تھیں، جس کے باعث بلوچ طلبہ سیاست میں ان کی قیادت کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا۔ 2016 میں بی بی سی نے انہیں اپنی سالانہ فہرست ’’100 ویمن‘‘ میں بھی شامل کیا۔

کریمہ بلوچ کی تاریخِ پیدائش 8 مارچ 1983 بیان کی جاتی ہے۔ ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تمپ سے تھا، تاہم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) سے وابستہ بعض تحریریں دبئی کو ان کی جائے پیدائش قرار دیتی ہیں۔ ان کی ابتدائی زندگی اور پرورش بہرحال بلوچستان کے علاقے تمپ میں ہوئی، جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔

کریمہ بلوچ کا تعلق ایک ایسے خاندان سے بتایا جاتا ہے جس کے بعض افراد بلوچ قوم پرست سیاست اور تحریک سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کے ماموں واحد کمبر بلوچ نے نواب خیر بخش مری کے ساتھ افغانستان میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ واحد کمبر بلوچ اس وقت لاپتہ ہیں اور ان کے اہل خانہ کے مطابق انہیں پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا۔ انہیں بلوچ قوم پرست سیاست اور مزاحمتی تحریک کے حوالے سے ایک اہم شخصیت سمجھا جاتا ہے۔

اسی خاندانی پس منظر میں ڈاکٹر خالد بلوچ کا ذکر بھی آتا ہے، جنہیں بعض روایات میں بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر خالد بلوچ 2007 میں اپنے ساتھی دلجان بلوچ کے ہمراہ پاکستانی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارے گئے تھے۔

کریمہ بلوچ نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کے پلیٹ فارم سے کیا۔ مختلف سوانحی تحریروں کے مطابق، وہ 2005 یا 2006 کے دوران تنظیمی سرگرمیوں میں شامل ہوئیں۔ تنظیم میں شمولیت کے بعد انہوں نے بتدریج مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں اور مرکزی سطح پر اپنی جگہ بنائی۔ دستیاب تنظیمی سوانح کے مطابق، وہ مرکزی کمیٹی کی رکن منتخب ہوئیں، جس کے بعد ان کی تنظیمی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوتا گیا۔

2008 کے کونسل سیشن میں وہ جونیئر وائس چیئرپرسن منتخب ہوئیں۔ اس وقت تنظیم کے چیئرمین بشیر زیب تھے، جو اب بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سربراہ ہیں۔ 2012 میں کریمہ بلوچ کو سینئر وائس چیئرپرسن منتخب کیا گیا، جبکہ 2015 میں وہ بی ایس او آزاد کی چیئرپرسن بنیں۔ یہ ان کے سیاسی سفر کا اہم مرحلہ تھا، کیونکہ وہ تنظیم کی پہلی خاتون چیئرپرسن تھیں۔

2015 میں وہ پاکستان سے کینیڈا منتقل ہوئیں اور 2016 میں انہیں وہاں پناہ مل گئی۔ 20 دسمبر 2020 کو وہ ٹورنٹو میں لاپتا ہوئیں۔ ان کے اہل خانہ نے ان کی گمشدگی کی اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے ان کی تلاش شروع کی۔ 21 دسمبر کو ان کی لاش ملنے کی اطلاع سامنے آئی، جبکہ 22 دسمبر کو پولیس نے ان کی موت کی خبر عام کی۔

بلوچ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو کلاسیکی تاریخی شخصیات سے لے کر عصرِ حاضر تک خواتین مختلف حوالوں سے نمایاں کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اسی تناظر میں کاڈ کے نام کے انتخاب کے حوالے سے ہم نے بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کو سوالات بھیجے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ’’کریمہ‘‘ نام کے انتخاب کے پسِ پشت کیا وجوہات ہیں۔

اس سوال کے جواب میں بی ایل ایف نے ہمیں اپنا تحریری مؤقف ارسال کیا، جسے قارئین کے لیے من و عن پیش کیا جا رہا ہے۔

’’سماجی اور عسکری امور میں نمایاں کرادار کے باعث بلوچ تاریخ کے اوراق میں کئی “ شیر زال“ ملتے ہیں۔ 21 ویں صدی کے آغاز پر تحریک آزادی کی رواں ابھار کے ابتداء سے سیاسی اور انسانی حقوق کی تحریکوں میں بلوچ خواتین کی موثر موجودگی اور کردار نظر آتا ہے۔ اس دوران متعدد بلوچ خواتین اپنے قائدانہ کردار کے باعث قومی افق پر نمایاں ہوگئیں تاہم کریمہ بلوچ پہلی خاتون رہنما ہے جو اپنے قائدانہ صلاحیتوں، متحرک کردار اور غیر متزلزل عزم کے باعث نہ صرف بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن کے منصب پر فائز ہوگئیں بلکہ تحریک کے جمہوری محاذ پر بلوچ عوام، بالخصوص خواتین کو متحرک، متاثر، اور موبلائز کرنے میں نمایاں قائدانہ کردار ادا کیا۔ وہ بلوچ معاشرے میں ایک مثالی قائد اور کردار بن کر اُبھری۔ کریمہ بلوچ نے کئی عالمی فورمز پر بھی بلوچ تحریک کی نمائندگی کرکے سفارتی حلقوں میں بھی ایک نمایاں بلوچ شخصیت بن گئی تھی۔ کریمہ بلوچ کی تمام تر جدوجہد جمہوری اور پُرامن رہی، پھر بھی قابض پاکستانی ریاست نے بیرون ملک اس کا پیچھا کرکے اسے شہید کیا۔ کریمہ بلوچ کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ مرد یا عورت اگر قومی شعور سے لیس ہے اور آزادی کی بات کرتا/ کرتی ہے تو ریاست پاکستان اس کی جدوجہد کے طریقے اور صنف کو بالائے طاق رکھ کر یکساں طور پر ان کے ساتھ پُرتشدد برتاؤ کرتی ہے۔ کریمہ بلوچ کے نام سے منسوب اس یونٹ کی تشکیل کا مقصد تحریک آزادی میں کریمہ بلوچ کے منفرد تاریخی کردار، عزم اور قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے اور بلوچ قوم کو یہ یاد دلانا اور باور کرانا ہے کہ ظالم، جابر اور وحشی دشمن قومی شعور اور آزادی کی امنگ رکھنے والے بلوچوں میں نہ کوئی صنفی تفریق کرتا ہے اور نہ ان کے طریقہ جدوجہد میں فرق کرتا ہے، اس لئے بلوچ بھی بلا تفریق صنف تحریک آزادی کے ہر محاذ پر اپنا بھرپور کردار ادا کرکے محکومی اور غلامی کا طوق گلے سے اتار پھینکنے میں اپنا اپنا تاریخی کردار ادا کریں۔‘‘

بلوچ خواتین کا بدلتا کردار

بلوچستان کی سیاسی، سماجی اور قومی تحریکوں میں خواتین کا کردار کوئی نیا موضوع نہیں۔ بلوچ خواتین طویل عرصے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں، لاپتہ افراد کی بازیابی، سیاسی مزاحمت اور سرفیس سیاست کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ احتجاجی مظاہروں، ریلیوں، پریس کانفرنسوں، عوامی اجتماعات اور سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے انہوں نے بلوچستان کے مسائل کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

تاہم، گزشتہ چند برسوں کے دوران بلوچ مسلح تنظیموں میں خواتین کی شمولیت اور ان کے جنگی کردار کے حوالے سے سامنے آنے والے واقعات نے اس بحث کو ایک نئی جہت دی ہے۔

یہ تبدیلی محض چند انفرادی واقعات تک محدود نہیں رہی، بلکہ مختلف اوقات میں بلوچ مسلح تنظیموں کی جانب سے خواتین کی عسکری سرگرمیوں، خودکش حملوں اور منظم عسکری ڈھانچے میں شمولیت کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان پیش رفتوں نے بلوچ سیاست، قوم پرستی، صنفی کردار اور مسلح جدوجہد کے باہمی تعلق پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کو بھیجے گئے سوالات میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ تنظیم نے کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن کے قیام کا فیصلہ کس پس منظر میں کیا اور اس یونٹ کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟

اس سوال کے جواب میں بی ایل ایف کا کہنا ہے کہ خواتین کسی بھی قوم کی آدھی آبادی ہوتی ہیں اور تاریخی طور پر تحریکوں کی آزادی میں ان کا کردار رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق، بلوچ تاریخ کے مختلف ادوار میں بھی عسکری میدان میں بعض نامور اور بے شمار گمنام خواتین کا کردار موجود رہا ہے۔ بی ایل ایف کا مؤقف ہے کہ آبادی کے اس نصف حصے کو عسکری محاذ جیسے اہم میدان سے باہر رکھنا قومی نقصان ہے، اسی لیے اس نقصان سے بچنے اور ایک تاریخی تحریکی ضرورت پوری کرنے کے لیے کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا۔

شاری بلوچ: ایک اہم موڑ

26 اپریل 2022 کو کراچی کی جامعہ کراچی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے اہلکاروں کو لے جانے والی ایک گاڑی پر خودکش حملہ کیا گیا، جس کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی۔ بی ایل اے نے حملہ آور کی شناخت شاری بلوچ کے نام سے کی۔

اس واقعے نے بلوچ مسلح تحریک میں خواتین کی شمولیت کے موضوع کو غیر معمولی طور پر نمایاں کیا۔ شاری بلوچ کو ایک بلوچ مسلح تنظیم کی جانب سے ایک خاتون رکن اور خودکش حملہ آور کے طور پر متعارف کرائے جانے کے بعد اس موضوع پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بحث شروع ہوئی۔ وہ بلوچ مسلح تحریک میں خودکش حملہ کرنے والی پہلی معروف خاتون تھیں۔

شاری بلوچ کے واقعے کو اس لیے بھی اہم سمجھا گیا کہ اس نے خواتین کے روایتی سیاسی اور سماجی کردار سے ہٹ کر مسلح کارروائی میں براہِ راست شرکت کے سوال کو مرکزی بحث بنا دیا۔ اس کے بعد بلوچ مسلح تنظیموں میں خواتین کی شمولیت، ان کے نظریاتی محرکات، تنظیمی حکمتِ عملی اور اس طرزِ عمل کے سیاسی و سماجی اثرات پر بحث میں اضافہ ہوا۔

شاری بلوچ کے واقعے کے بعد بی ایل اے میں خواتین کی شمولیت کے مزید واقعات سامنے آئے۔ تنظیم کے آپریشن ہیروف کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں نوجوان اور بڑی عمر کی متعدد خواتین کی شرکت کی اطلاعات اور تنظیمی اعلانات سامنے آئے۔

بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے اگست 2024 میں شروع کیے گئے آپریشن ہیروف نے بلوچستان میں مسلح سرگرمیوں کو ایک نئی سطح پر نمایاں کیا۔ اس کارروائی کے دوران بیلہ میں پاکستانی فورسز کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ماہل بلوچ نے خودکش حملہ کیا تھا۔ بعد ازاں آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے میں بھی چھ خواتین کی شرکت کا اعلان کیا گیا۔

 

بی ایل ایف کی جانب سے پہلی خاتون خودکش حملہ آور کا اعلان

30 نومبر 2025 کو بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹر پر ایک بڑا مسلح حملہ کیا گیا۔ اس کارروائی میں ایک خودکش حملہ آور کی شناخت زرینہ رفیق کے نام سے کی گئی۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے زرینہ رفیق کو اپنے فدائی یونٹ، سدو آپریشنل بٹالین (Saddo Operational Battalion)، سے منسلک قرار دیا۔

اس واقعے کو بی ایل ایف کی مسلح سرگرمیوں میں خواتین کی شمولیت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا، کیونکہ یہ تنظیم کی جانب سے کسی خاتون فدائی کا پہلا اعلان تھا۔

کاڈ کی تشکیل اور اس کے پس منظر کے حوالے سے بی ایل ایف سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ آیا اپریل 2022 میں شاری بلوچ کے واقعے کے بعد خواتین کی عسکری شمولیت کے تناظر میں اس کا تصور سامنے آیا یا یہ منصوبہ اس سے پہلے ہی زیرِ غور تھا۔

اس سوال کے جواب میں بی ایل ایف نے مؤقف اختیار کیا کہ بلوچ تحریکِ آزادی کے عسکری محاذ پر خواتین کے کردار اور ان کی شمولیت کا تصور تنظیم میں کافی پہلے سے موجود تھا۔ تنظیم کے مطابق، 2013 میں بی ایل ایف کی سپریم کمانڈ کونسل نے مشاورت اور فیڈبیک کے حصول کے لیے ایک باقاعدہ کونسل تشکیل دی تھی، جس کی ذمہ داری تحریکِ آزادی سے متعلق سیاسی، سماجی، عسکری اور دیگر قومی امور پر تجاویز، مشورے، تجزیے اور رپورٹس مرتب کرنا تھی۔

بی ایل ایف کے مطابق، اس کونسل میں خواتین ارکان بھی شامل تھیں، جبکہ 2015 میں تنظیم کی سپریم کونسل میں بھی ایک خاتون رکن کا انتخاب کیا گیا تھا۔

بی ایل ایف کے اس دعوے کی دی بلوچستان پوسٹ آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکی۔

پاکستانی تجزیہ کاروں کی نظر میں خواتین کی شمولیت

بلوچ خواتین کی سیاسی سرگرمیوں کی تاریخ مسلح تنظیموں میں ان کی موجودہ عسکری شمولیت سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ خواتین نے طویل عرصے سے تعلیم، سماجی حقوق، سیاسی تنظیم سازی، احتجاجی تحریکوں، لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی نمائندگی اور انسانی حقوق کے سوالات کو اجاگر کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے انہوں نے نہ صرف بلوچستان کے اندر سیاسی بحث کو متاثر کیا بلکہ بعض معاملات کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی متعارف کرایا۔

اسی تناظر میں ہم نے مختلف پاکستانی محققین، تجزیہ کاروں اور سکیورٹی امور کے ماہرین کے مؤقف کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سکیورٹی تجزیہ کار عامر رانا سمیت معید پیرزادہ اور وجاہت حسین سید کے تجزیے بھی اہم ہیں، جنہوں نے بلوچ مسلح گروہوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو پاکستانی ریاست اور فوج کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج قرار دیا ہے۔

عامر رانا کے مطابق، خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ کسی تحریک کا اثر محدود حلقے سے نکل کر معاشرے کے وسیع حصوں تک پھیل رہا ہے۔ ان کے نزدیک ایسی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ریاستی حکمتِ عملی میں محض سکیورٹی اقدامات کے بجائے سماجی محرکات اور عوامی اعتماد کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔

رانا نے خبردار کیا ہے کہ غیر محتاط اقدامات اور صنفی بنیادوں پر امتیازی رویے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ معید پیرزادہ اور وجاہت حسین سید نے بھی بلوچ مسلح گروہوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کو پاکستانی ریاست اور فوج کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔

بلوچ مسلح تحریک میں خواتین کی شمولیت: سماجی رویے، ثقافتی رکاوٹیں اور ممکنہ اثرات

دنیا کے کسی بھی خطے میں جب کوئی نئی سیاسی، سماجی یا مزاحمتی پیش رفت سامنے آتی ہے تو اسے محض ایک ہی زاویے سے دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ ہر نئے عمل کے حامی بھی موجود ہوتے ہیں اور اس پر تنقید کرنے والے بھی۔ کسی بھی تبدیلی کے بارے میں معاشرے کا ردِعمل اس کی تاریخی، ثقافتی، سیاسی اور سماجی ساخت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

اسی لیے کسی بھی تحریک میں ہونے والی تبدیلیوں اور نئے رجحانات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کا جائزہ صرف تحریک کے اپنے بیانیے کی روشنی میں نہ لیا جائے بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات کے خیالات، خدشات، توقعات اور تنقیدی آرا کو بھی اہمیت دی جائے۔

اسی تناظر میں جب ہم نے بلوچ مسلح تحریک میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کا جائزہ لینے کی کوشش کی تو یہ سوال صرف بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے سامنے نہیں رکھا بلکہ مختلف سیاسی اور فکری شخصیات سے بھی اس حوالے سے گفتگو کی۔ ہمارا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ بلوچ خواتین کی عسکری سرگرمیوں میں شرکت کو مختلف حلقے کس نظر سے دیکھتے ہیں، اس رجحان کے پیچھے کون سے سماجی اور سیاسی عوامل کارفرما ہیں اور اس کے بلوچ معاشرے اور تحریک پر کیا ممکنہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ان گفتگوؤں سے یہ بات سامنے آئی کہ اگرچہ خواتین کی شمولیت کے حوالے سے متعدد حلقوں میں حمایت پائی جاتی ہے، تاہم اس عمل کے سماجی مضمرات، اس کی پائیداری اور مستقبل میں اس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں بعض اہم خدشات بھی موجود ہیں۔

علاقائی اور ثقافتی ماحول

بلوچستان ایک ایسا خطہ ہے جو پاکستان، ایران اور افغانستان کی سرحدوں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ تینوں ممالک مسلم اکثریتی معاشرے رکھتے ہیں، جہاں مذہبی تصورات، روایتی سماجی ڈھانچوں اور صنفی کرداروں کے بارے میں مخصوص رویے پائے جاتے ہیں۔ عمومی طور پر ایسے معاشروں میں خواتین کی عسکری سرگرمیوں میں براہِ راست شرکت کو غیر معمولی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ خواتین کے سماجی کردار کو اکثر خاندان، گھر اور روایتی ذمہ داریوں کے دائرے میں دیکھا جاتا ہے۔

اس صورتِ حال میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا اس علاقائی، مذہبی اور ثقافتی ماحول نے بلوچ خواتین کی مسلح تحریک میں شمولیت کے راستے میں کوئی رکاوٹ پیدا کی؟

یہ سوال جب ہم نے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سامنے رکھا تو تنظیم نے اس تصور سے اختلاف کیا کہ مسلم اکثریتی معاشروں کی موجودگی بذاتِ خود بلوچ خواتین کی عسکری شمولیت میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ بی ایل ایف کے مؤقف کے مطابق، اگرچہ پاکستان، ایران اور افغانستان تینوں مسلم اکثریتی ممالک ہیں، لیکن ان ممالک کی حکمران اقوام کی اپنی جداگانہ تاریخ، ثقافت اور روایات ہیں۔ اسی طرح بلوچ قوم کی اپنی منفرد شناخت، تاریخی تجربات، ثقافتی روایات اور اجتماعی تصورات ہیں، جنہیں ان ممالک کے عمومی سماجی یا مذہبی ماحول کے ساتھ یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تنظیم کے مطابق، خطے کی تاریخ میں مختلف ادوار کے دوران بیرونی قوتوں کے خلاف افغانوں اور ایرانیوں کی جدوجہد میں بھی خواتین کا کردار مختلف شکلوں میں موجود رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی ریاستی فوج میں بھی خواتین خدمات انجام دیتی ہیں۔ بی ایل ایف نے ان مثالوں کی بنیاد پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ خواتین کی عسکری سرگرمیوں میں شرکت کو صرف مذہبی اکثریت یا علاقائی ثقافت کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ تنظیم کے بقول، بلوچ تحریکِ آزادی میں خواتین کی عسکری شمولیت کے حوالے سے اسے علاقائی اور ثقافتی ماحول کی جانب سے کسی ایسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا جسے بنیادی رکاوٹ قرار دیا جا سکے۔

تاہم، کسی تنظیم کا مؤقف اس معاملے کا صرف ایک پہلو پیش کرتا ہے۔ کسی تحریک کے اندر کسی عمل کو قابلِ قبول سمجھا جانا اور پورے معاشرے میں اس کی وسیع تر سماجی قبولیت پیدا ہونا دو الگ معاملات ہیں۔ تنظیمی سطح پر خواتین کی شمولیت کو تسلیم کیا جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ معاشرے کے تمام طبقات بھی اسے اسی نظر سے دیکھیں گے۔ اس کے لیے معاشرتی رویوں، خاندانی ڈھانچوں، روایتی تصورات اور خواتین کے کردار سے متعلق رائج سوچ کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔

کیا بلوچ معاشرے میں خواتین کی شمولیت قبول کی گئی ہے؟

اگر بلوچ خواتین کی سیاسی شرکت اور قیادت کے حوالے سے زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو ایسے کئی واقعات سامنے آتے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچ معاشرے کے ایک بڑے حصے نے نہ صرف خواتین کی سیاسی قیادت کو قبول کیا بلکہ اس کی حمایت بھی کی ہے۔

اس کی ایک نمایاں مثال کریمہ بلوچ کی قیادت ہے۔ جب وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کی چیئرپرسن منتخب ہوئیں تو یہ تنظیم ہزاروں ارکان پر مشتمل سب سے بڑی بلوچ طلبہ تنظیموں میں شمار ہوتی تھی، جس میں اکثریت مرد طلبہ کی تھی۔ اس کے باوجود تنظیم کے ارکان نے ایک خاتون کو اپنی سربراہ کے طور پر قبول کیا اور ان کی قیادت میں سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ یہ محض تنظیمی سطح پر خواتین کی نمائندگی نہیں تھی بلکہ ایک ایسے سیاسی ماحول میں خاتون کی قیادت کا اعتراف تھا جہاں طلبہ سیاست میں مردوں کی اکثریت رہی ہے۔

اسی طرح ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی اپیل پر مختلف اوقات میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں، اجتماعات اور ریلیوں میں لاکھوں افراد کی شرکت بھی اس حوالے سے ایک اہم مثال ہے۔ ان اجتماعات میں لوگوں کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بلوچ عوام نے خواتین کو نہ صرف سیاسی رہنما کے طور پر قبول کیا بلکہ مشکل سیاسی حالات اور حکام کی جانب سے سخت پابندیوں کے باوجود ان کی اپیل پر گھروں سے نکل کر احتجاج میں حصہ بھی لیا۔

شاری بلوچ کا واقعہ بھی اس تبدیلی کا ایک اہم مرحلہ تھا۔ ایک خاتون کے خودکش حملے کے بعد اس موضوع پر سماجی اور سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوئی، جبکہ بعد کے برسوں میں دیگر خواتین کی مسلح تنظیموں میں شمولیت کے واقعات بھی سامنے آئے۔

ان تبدیلیوں پر سوشل میڈیا سمیت مختلف حلقوں میں بحث و مباحثہ ضرور ہوا۔ بعض افراد نے ان پر تنقید کی اور ان کے سماجی و سیاسی اثرات کے حوالے سے سوالات اٹھائے، تاہم اب تک سیاسی یا مذہبی حلقوں کی جانب سے کوئی ایسی نمایاں منظم تحریک یا عوامی ردِعمل سامنے نہیں آیا جسے خواتین کی اس شمولیت کے خلاف وسیع پیمانے پر مخالفت قرار دیا جا سکے۔

اس کے برعکس، مختلف بلوچ، پاکستانی اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے تبصروں اور دستیاب اطلاعات میں بلوچ مسلح گروہوں میں خواتین کی شرکت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔

ان تمام زمینی حقائق، سیاسی تجربات اور مختلف ادوار میں سامنے آنے والی پیش رفتوں کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ بلوچ معاشرے کے ایک بڑے حصے نے خواتین کی سیاسی قیادت اور قومی جدوجہد میں ان کی شرکت کو نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ اس کی حمایت بھی کی ہے۔ کریمہ بلوچ کی قیادت کو مرد اکثریتی طلبہ تنظیم کی جانب سے قبول کیا جانا، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی اپیل پر بڑے پیمانے پر عوامی اجتماعات میں شرکت اور شاری بلوچ کے بعد خواتین کی عسکری سرگرمیوں میں سامنے آنے والے واقعات اس تبدیلی کے مختلف پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اگرچہ اس رجحان پر سوشل میڈیا اور دیگر حلقوں میں بحث و تنقید ہوتی رہی ہے، تاہم اس کے خلاف کسی نمایاں عوامی یا منظم سیاسی و مذہبی تحریک کا سامنے نہ آنا بھی قابلِ توجہ ہے۔ مختلف بلوچ، پاکستانی اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کی جانب سے بلوچ مسلح تنظیموں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کی نشاندہی بھی اس رجحان کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ تمام مشاہدات اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ بلوچ آبادی کے ایک بڑے حصے میں خواتین کی قومی اور سیاسی جدوجہد میں شرکت، حتیٰ کہ عسکری سرگرمیوں میں ان کے کردار کو بھی وسیع پیمانے پر قبولیت حاصل ہو رہی ہے۔

خواتین کی عسکری شمولیت پر تحفظات اور خدشات

جب ہم نے بلوچ مسلح تحریک میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے حوالے سے مختلف شخصیات سے گفتگو کی تو ان میں سے متعدد کی آرا میں اس رجحان کی حمایت نمایاں تھی۔ تاہم، اس کے ساتھ ایک دوسرا نقطۂ نظر بھی سامنے آیا، جسے نظرانداز کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

سامنے آنے والے تحفظات کا بڑا حصہ خواتین کی شمولیت کی مخالفت کے بجائے ان کے تحفظ، حقوق اور اس عمل کے ممکنہ سماجی اثرات سے متعلق تھا۔

خواتین کی عسکری شمولیت کے حوالے سے سامنے آنے والے بعض تحفظات کا تعلق اس بات سے ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں خواتین کو کن حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بلوچ ثقافت میں خواتین کے ساتھ برتاؤ اور ان کے احترام کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس لیے خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اگر خواتین کو جبری گمشدگیوں، دورانِ حراست بدسلوکی، تشدد، یا ہراسانی  جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا تو اس کے اثرات محض انفرادی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خاندانوں اور پورے معاشرے پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ خدشات اس پس منظر میں بھی اہمیت رکھتے ہیں کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ خواتین کی عسکری شمولیت کے بعد ان کے تحفظ، حقوق اور ان کے ساتھ ممکنہ برتاؤ کا سوال مزید حساس ہو جاتا ہے۔

ایک دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ مسلح تنظیمیں خواتین کی شمولیت کو کس طرح منظم کرتی ہیں اور اس حوالے سے ان کے پاس کیا طریقۂ کار اور انتظامی نظام موجود ہے۔ خواتین کی شرکت کے دوران ان کے حقوق، تحفظ اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں؟ اور اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس سے نمٹنے کے لیے کیا طریقۂ کار اختیار کیا جائے گا؟

ان سوالات کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت محض انفرادی فیصلوں یا چند واقعات تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات تنظیموں، خاندانوں اور وسیع تر سماجی ڈھانچے تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس حوالے سے بلوچ مسلح تنظیموں پر بھی ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس تبدیلی کو کس انداز میں آگے بڑھاتی ہیں، خواتین کے حقوق اور تحفظ کو کس طرح یقینی بناتی ہیں اور اس بات کا خیال کیسے رکھتی ہیں کہ ان کے فیصلوں سے بلوچ معاشرے کے سماجی ڈھانچے پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ کسی بھی نئی پیش رفت کی اہمیت صرف اس کے آغاز سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی طے ہوتی ہے کہ اسے کس ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھایا جاتا ہے۔

نتیجہ

بلوچستان کی مسلح تنظیموں میں خواتین کی شمولیت ایک نسبتاً نیا رجحان ہے، جس کے حق اور مخالفت میں مختلف آرا موجود ہیں۔ تاہم، اس رجحان کے سیاسی، سماجی اور تاریخی اثرات کے بارے میں حتمی نتائج اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ اس کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ تنظیمیں خواتین کی شمولیت کو کس سمت میں لے جاتی ہیں، ان کے حقوق اور تحفظ کو کس حد تک یقینی بناتی ہیں اور اس کے نتیجے میں بلوچ سیاست اور سماج پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم، ایک بات سے انکار ممکن نہیں کہ کسی بھی مہذب، ترقی یافتہ اور مساوات پر یقین رکھنے والے معاشرے میں خواتین کی شرکت، انہیں مردوں کے برابر سمجھنا اور زندگی کے تمام شعبوں میں ان کے لیے جگہ پیدا کرنا بذاتِ خود ایک مثبت پیش رفت ہے۔ خواتین کو سیاسی، سماجی اور دیگر شعبوں میں برابری کے مواقع فراہم کرنا کسی بھی معاشرے کی بہتری اور ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔