کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ 6,399ویں روز بھی جاری رہا۔
بیبرگ قمبرانی اور ذیشان کے لواحقین نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی اور کہا کہ تمام تر کوششوں اور پُرامن احتجاج کے باوجود انہیں انصاف نہیں مل سکا، جس کے باعث ان کے خاندان شدید اذیت کا شکار ہیں۔
لواحقین کے مطابق، بیبرگ قمبرانی کو 25 دسمبر 2025 کو کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا، جبکہ ذیشان 2015 سے کوئٹہ کے علاقے سریاب سے لاپتہ ہیں۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ بیبرگ قمبرانی، ذیشان سمیت تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص پر کوئی الزام ہے تو اسے منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے۔
علاوہ ازیں، ضلع کیچ کے علاقے شے تگر گھنہ کے رہائشی 24 سالہ دکان دار آدم اکرم ولد اکرم علی کو بھی مبینہ طور پر فرنٹیئر کور (ایف سی) نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے مطابق، آدم اکرم کو 9 اگست 2026 کی رات تقریباً 3 بجے تربت کے علاقے شے تگر گھنہ میں ایف سی چیک پوسٹ کے قریب سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔



















































