کیچ: جبری لاپتہ نوجوان کی لاش برآمد

35

پاکستانی فورسز نے نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع کیچ کی تحصیل تمپ کے علاقے کوھاڑ کے رہائشی عدیل بلوچ تین روز قبل کوھاڑ بازار سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بنے تھے، جن کی لاش آج سرنکن کے علاقے سے برآمد ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ دنوں پاکستانی فورسز اور ڈیتھ اسکواڈ نے کوھاڑ بازار میں چھاپہ مار کر چار نوجوانوں کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا تھا، جن میں عدیل بھی شامل تھے، گزشتہ شب بھی اسی علاقے سے مشتاق ولد ماسٹر صدیر کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

زرائع کے مطابق ہفتے کوھاڑ سے مجموعی طور پر پانچ نوجوان جبری گمشدگی کا نشانہ بنے، جن میں سے عدیل کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے دو نوجوان مہران بلوچ ولد حاجی اکبر، یاسر ولد بلوچ خان کی لاشیں برآمد ہوئی تھی۔

بی وائی سی نے اس واقعہ کے حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا بلیدہ میناز کے رہائشی مہران ولد حاجی اکبر کو 16 نومبر 2025 کو پاکستانی فورسز نے ان کے گھر پر چھاپے کے دوران حراست میں لے کر ایک فوجی کیمپ منتقل کیا تھا، جس کے بعد سے وہ منظرعام پر نہیں اسکے تھے۔

تنظیم نے تصدیق کی ہے کہ اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ طالب علم یاسر ولد بلوچ خان کو پاکستانی فورسز نے 2 مارچ 2026 ان کے گھر سے حراست میں لیا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئے۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے سیاسی و انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق، جبری گمشدگیوں کا نشانہ بننے والے کئی سو افراد کو قتل کرکے ان کی لاشیں پھینکی جاچکی ہیں، جبکہ کئی ہزار مرد، خواتین اور بچے تاحال لاپتہ ہیں۔

ان تنظیموں کی جانب سے اقوام متحدہ و دیگر عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں و ماورائے عدالت قتل رپورٹ پیش کرکے پاکستان سے جواب طلبی کا بھی مطالبہ سامنے آیا ہے۔