پسنی: اسکول ٹیچر کے اغوا کے بعد قتل کے خلاف اہلخانہ اور شہریوں کا احتجاج

18

اسکول ٹیچر کو گزشتہ روز پاکستانی فورسز کے حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ گروہ نے اہلخانہ کے سامنے اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

پسنی میں مقتول اسکول ٹیچر پرویز مزار کے اہلخانہ، بچوں اور اہلِ علاقہ نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان، جو اس وقت پاکستانی فورسز کی پناہ میں ہیں، انہیں فوری طور پر پولیس کے حوالے کیا جائے۔

مظاہرین نے خبردار کیا کہ انصاف فراہم نہ کیا گیا تو واقعے کے خلاف پسنی زیرو پوائنٹ پر دھرنا دے کر سڑک بند کردی جائے گی۔

واضح رہے کہ مقتول پرویز مزار پیشے کے اعتبار سے اسکول ٹیچر تھے، جنہیں گزشتہ روز اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا تھا، اہلخانہ کے مطابق پرویز مزار کو ایک نجی ٹارچر سیل میں رکھنے کے بعد قتل کیا گیا۔

مظاہرین نے کہا کہ پاکستانی فورسز ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کو پناہ دینے کے بجائے پولیس کے حوالے کریں، تاکہ مقتول کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے انصاف فراہم کیا جاسکے۔

مظاہرین نے کہا کہ ملکی ادارے اور فورسز ایسے قاتل اور شدت پسند عناصر کی بیخ کنی کریں، جو اداروں اور فورسز کا نام استعمال کرکے عام شہریوں کو اغوا کرتے، تشدد کا نشانہ بناتے اور بعد ازاں بے دردی سے قتل کرکے ویران مقامات پر پھینک دیتے ہیں۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے خواتین نے کہا کہ ایسے عناصر “ڈیتھ اسکواڈ” عام شہریوں کے دلوں میں فورسز اور اداروں کے لیے نفرت پیدا کررہے ہیں، جس کی فوری روک تھام ضروری ہے۔

مقتول اسکول ٹیچر پرویز مزار کے بچوں نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور ان کے والد کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔

دریں اثنا، مقتول کے اہلخانہ نے واضح انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر فورسز کی پناہ میں موجود ملزمان کو پولیس کے حوالے نہیں کیا گیا تو وہ مکران کوسٹل ہائی وے کو پسنی زیرو پوائنٹ کے مقام پر بند کردیں گے۔

مظاہرین نے واضح کیا کہ مقتول ایک بے گناہ اسکول ٹیچر تھے اور ان کے قتل میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لاکر انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔