کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری، آواران سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بازیاب

15

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا جبری گمشدگیوں کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6390ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر جبری لاپتہ کامران خان کے والد عزیراللہ اور بھائی نے کیمپ میں شرکت کرکے ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

لواحقین کے مطابق، کامران خان کو یکم اپریل 2026 کو کوئٹہ کے علاقے کلی کشمیر آباد سے پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس کے باعث ان کا خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ کامران خان کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کامران خان سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے خلاف کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں اور لاپتہ بلوچ افراد کے ماورائے عدالت قتل کے مکمل خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔

علاوہ ازیں، آواران کے علاقے مشکے، میانی قلات سے تعلق رکھنے والے یاسر ولد قادربخش کو 6 اکتوبر 2026 کو کراچی سینٹرل جیل سے رہا کردیا گیا۔ یاسر کو 2 فروری 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ وہ تقریباً آٹھ ماہ بعد رہا ہوئے۔