بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6389ویں روز بھی جاری رہا۔
اس موقع پر 6 مئی کو ڈیگاری کراس ایف سی چیک پوسٹ سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے محمد ریاض ساتکزئی کے والد خان محمد نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی اور اپنے بیٹے کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔
خان محمد نے بتایا کہ کمیشن کے احکامات پر متعلقہ تھانے کی پولیس اور اعلیٰ حکام نے ان کے بیٹے کی جبری گمشدگی کے حوالے سے ان کے بیانات ریکارڈ کیے، تاہم اس کے باوجود نہ تو ان کے بیٹے کی گرفتاری کی وجوہات بتائی جا رہی ہیں اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس صورتِ حال کے باعث ان کا خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کی باحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ محمد ریاض ساتکزئی سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی لاپتہ شخص پر کوئی الزام ہے تو اسے منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ان کے اہلِ خانہ کو طویل انتظار، کرب اور ذہنی اذیت سے نجات مل سکے۔
علاوہ ازیں، وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈسپیئرنسز نے یکم اپریل کو کلی کشمیر آباد، قمبرانی روڈ، کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے کامران خان کے کیس کو باقاعدہ نمبر الاٹ کرکے ان کی بازیابی کے لیے متعلقہ اداروں کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وی بی ایم پی پہلے ہی کامران خان کا کیس کمیشن اور حکومت کو فراہم کر چکی ہے۔
نصراللہ بلوچ نے امید ظاہر کی کہ کمیشن، کامران خان سمیت دیگر جبری لاپتہ افراد کی بازیابی اور ان کے لواحقین کو ملکی قوانین کے تحت انصاف کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔

















































