بلوچستان: چھ علاقوں میں بیک وقت فوجی آپریشن، فورسز پر مسلح حملے

26
فائل فوٹو

بلوچستان کے مختلف علاقے پاکستانی فوج کے آپریشنوں کے زد میں ہیں۔ ان علاقوں میں دشت، تربت، مستونگ، خضدار اور ہرنائی شامل ہیں۔ گن شپ ہیلی کاپٹر، کواڈ کاپٹر اور بکتر گاڑیوں و توپ خانہ آپریشن کا حصہ ہے۔

تربت کے علاقے ناصر آباد اور گردنواح میں پاکستان فوج نے آج صبح فوجی آپریشن کا آغاز کیا، آبادی اور جنگل آپریشن کی زد میں ہیں۔ علاقائی ذرائع کے مطابق مسلح گروہ یعنی ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان بھی آپریشن کا حصہ ہیں۔

ادھر تمپ کے علاقے ہوت آباد، کوھاڈ، کلاہو اور گردو نواح کے علاقوں میں گذشتہ روز سے آپریشن جاری ہے۔ آج دوسرے روز بھی فورسز کی بھاری تعداد علاقے میں آپریشن میں مصروف ہے۔

دریں اثناء کیچ ہی کے علاقے دشت، چیر کنچتی میں آپریشن میں پاکستانی فورسز کو مسلح افراد نے حملے میں نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں پانچ اہلکاروں کے ہلاکت کی اطلاعات ہیں تاہم حکام کی جانب سے تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

مزید برآں مستونگ کے علاقے دشت، پنگو میں سینکڑوں کی تعداد میں پاکستانی فورسز کے اہلکار آپریشن میں مصروف ہیں، بکتر بند گاڑیاں اور کواڈ کاپٹر آپریشن کا حصہ ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پوری آبادی فورسز کے محاصرے میں ہے۔

دریں اثناء خضدار کے علاقے پیر عمر اور گردنواح میں پاکستان فوج کے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی جانب سے مختلف مقامات پر شدید شیلنگ کی گئی تاہم نقصانات کے حوالے سے تاحال تفصیلات تک رسائی ممکن نہیں ہوسکی ہے۔

ہرنائی کے علاقے شاہرگ اور گردنواح میں بھی پاکستان فوج کے سینکڑوں اہلکار پیدل اور گاڑیوں میں پیش قدمی کررہے ہیں۔ فورسز کے ہمراہ بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ آپریشن کا حصہ ہے۔

دوسری جانب قلات کے علاقے منگچر میں سورو کے مقام پر روڈ کلئرینس میں مصروف فورسز اہلکاروں کو مبینہ اسنائپر حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے جس میں ایک اہلکار کے ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

مستونگ کے علاقے گرگینہ، گریڈ کے مقام پر پاکستان فوج کے قافلے میں شامل اہلکاروں کو بھی مسلح حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

گذشتہ روز قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں پنکی کے مقام پر نامعلوم افراد فورسز کی ایک خالی چوکی دھماکے میں تباہ کردیا۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ چوکی فورسز مختلف استعمال میں استعمال لاتے تھے۔

بلوچستان بھر میں فوجی آپریشنوں کے حوالے سے پاکستانی حکام نے تاحال کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے جبکہ حملوں کی ذمہ داری بھی کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔