آہ کمانڈر قاضی (واھگ بزدار) – دینار بلوچ

1

آہ کمانڈر قاضی (واھگ بزدار)

تحریر: دینار بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کچھ لوگ اس دنیا میں صرف زندگی گزارنے نہیں آتے، بلکہ اپنی سادگی، کردار، خلوص اور قربانی سے دوسروں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتے ہیں۔ وہ بظاہر تو عام انسان ہوتے ہیں، مگر ان کی سوچ، ان کا حوصلہ اور ان کی زندگی کے اصول انہیں دوسروں سے منفرد بنا دیتے ہیں۔ کمانڈر ہارون رشید عرف قاضی ایسے ہی ایک نڈر بلوچ گوریلا تھے جس کی شہادت نے یادوں کے چراغ تو روشن رکھے، مگر دلوں میں اداسی کی ایک گہری لہر چھوڑ دی۔

ہارون رشید عرف قاضی (واھگ بلوچ) سے میری پہلی ملاقات 2018 میں اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد میں ہوئی۔ میری تعارف کرنے کے بعد زگرین نے وہاں بیٹھے تمام دوستوں کی مجھ سے تعارف کرائی۔ ایک درمیانہ قد کا شخص جو ہاتھ میں لیے ایک تسبیح کے دانوں پر نہ جانے کیا پڑھ کے مسلسل ورد کر رہا تھا اور ایک اپنائیت بھرے لہجے سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ زگرین انگلی سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا: دینار، یہ میرا روم میٹ، میرا دوست اور میرا استاد چیئرمین ہارون رشید ہے۔ ان کا تعلق کوہ سلیمان، ڈیرہ غازی خان سے ہے اور یہاں بی ایس فلاسفی کر رہا ہے۔

اتوار والے دن میں اکثر زگرین سے ملاقات کرنے اسلامک یونیورسٹی چلا جاتا۔ واھگ زگرین کا روم میٹ تھا، اس لیے اکثر اس سے بھی ملاقات ہوتا رہتا۔

ایک نفیس، عزت دار اور خوش نما شخص ہونے کی وجہ سے میں اکثر رات دیر تک اس کے ساتھ مختلف موضوعات پر بحث کرتا۔ وہ علم کا ایک سمندر تھا، ہر چیز ایک استاد کی طرح مجھے سمجھاتا۔ مجھے لکھنا سکھایا؛ کیا پڑھنا ہے، کیسے پڑھنا ہے، میں یہ سب کچھ اس سے ہی سیکھ لیا۔ یونیورسٹی میں جس کسی کو بھی کوئی پریشانی ہوتی تو واھگ کے پاس پہنچتا: چیئرمین یہ کام، چیئرمین وہ کام۔ اکثر اوقات دورانِ مجلس کوئی آ کے دروازہ کھٹکھٹاتا اور واھگ کو آواز دیتا۔ واھگ پیار بھرے لہجے میں براہوئی میں مجھ سے کہتا: “قربان نی بریسہ آؤ۔”

دور بیٹھا زگرین ہنس کے اسے ایک مخصوص نام سے پکار کے بولتا: “آڑے نی نہ ای پار۔”

پھر واھگ چپل پہن کے دروازے پر کھڑا مسکرا کے بولتا: “جان سیکھ رہا ہوں ہراہوئی۔ دو سبخ تو دینار سے لیا ہے۔”

تم لکھو قربان، تم لکھو۔ کون کہتا ہے آپ لکھ نہیں سکتے؟ دیکھوں، فلاں تحریر بھی تو آپ نے لکھی ہے۔ وہ تو بہت اچھی لکھی ہے، اس کا مطلب تم لکھ سکتے ہو۔

قربان، میرے املا میں بہت غلطی ہوتی ہے، کہیں لوگ میری تحریر پڑھ کے ہنسنا شروع نہ کر دیں۔ میری بات سن کے وہ ہاتھ میں لیے تسبیح کے دانوں کو گراتا ہوا نہ جانے کیا پڑھ رہا تھا، پھر چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ سجائے بولنے لگا: “او منی جان، آپ ان کے زبان میں اتنا تو لکھ سکتے ہو، ان کو بولو آپ کے زبان میں اتنا لکھ کے دکھائے۔ اور ہاں، اگر وہ ہنس بھی لیں تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے، کیونکہ یہ ان کی زبان ہے۔ اگر وہ ہنس بھی لیں تو اپنی زبان کی توہین کریں گے، ہمیں کیا۔ اردو تو ہماری زبان نہیں ہے۔”

واھگ جیسے کردار پر لکھنا مجھ جیسے ایک عام لکھاری کے لیے تو ممکن نہیں، لیکن میں یوں خاموش نہیں رہ سکتا کیونکہ میری خاموشی سے واھگ اکثر مجھ سے خفا ہوتا۔ وہ ہمیشہ لکھنے کا کہتا، مجھے حوصلہ دیتا۔ اکثر کہتا رہتا: جان، غلط لکھو، لیکن لکھو۔ کوشش تو کرو۔

واھگ، تیرے کردار پر لکھنا میرے بس میں نہیں، لیکن میں ہمیشہ کی طرح آپ کے خفا ہونے سے ڈرتا ہوں۔ واھگ، میں وہی آپ کا کند ذہن شاگرد ہوں، مجھ سے ہزاروں غلطیاں ہوں گی، لیکن میں اس امید سے آپ کے کردار پر لکھنے کی جرت کر رہا ہوں کہ آپ مجھ سے ناراض نہیں بلکہ خوش ہوں گے۔

کمانڈر واھگ ایک ایسا انسان تھا جس کی شخصیت میں سادگی تھی، گفتگو میں خلوص تھا اور مزاج میں درویشی۔ اسے دنیا کی چمک دمک، شہرت اور نمود و نمائش سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی۔ اس کی زندگی کا حسن اس کے سادہ رہن سہن، بے لوث رویے اور ساتھیوں کے ساتھ محبت میں پوشیدہ تھا۔ وہ کم بولتا تھا، مگر جب بولتا تو اس کے الفاظ میں تجربے کی گہرائی اور دل کی سچائی محسوس ہوتی تھی۔

اس کی آنکھوں میں کئی خواب تھے، دل میں بے شمار احساسات اور ذہن میں زندگی کے کئی ادھورے منصوبے۔ وہ بھی دوسروں کی طرح ہنسنا چاہتا تھا، اپنوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا اور زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے لطف اندوز ہونا چاہتا تھا۔ مگر زندگی نے اسے وہ مہلت نہ دی جس کی خواہش ہر انسان اپنے دل میں رکھتا ہے۔

بلوچ تاریخ ایسے ناموں سے بھری پڑی ہے جو شہرت و نام و نمود کے حریص نہیں بلکہ خاموشی سے اپنا خون دے کر وطن و قوم کی بقا کی خاطر امر ہوئے ہیں۔ ہارون رشید عرف قاضی (واھگ بزدار) بھی ایسے ہی ایک بلوچ گوریلا تھا جو اپنا خون دے کر تاریخ کا رخ موڑ دیا۔

جب کبھی واھگ جیسا کوئی درویش صفت گوریلا سپاہی میدانِ کارزار میں جامِ شہادت نوش کرتا ہے، تو دل غم سے نڈھال ہو جاتا ہے اور آنکھیں بے اختیار اشکبار ہو جاتی ہیں۔

گوریلا جنگ کے کٹھن مراحل میں جہاں ایک عام انسان کی روح کانپ جاتی ہے، وہاں واھگ کا دل توکل کے نور سے منور رہتا تھا۔ اس کی شجاعت میں کوئی نمائش نہ تھی، بلکہ پرخلوص جذبہٴ قربانی تھا۔

وہ اپنے ساتھیوں کے لیے ایک مہربان رہنما اور سایہ دار درخت کی مانند تھا، جو سختیوں کو خود سہتا اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا۔

واھگ جیسے دور اندیش اور عظیم کمانڈر کا چلے جانا بلوچ قوم اور اس کے گوریلا ساتھیوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ واھگ جان، غم اس بات کا نہیں کہ آپ شہید ہوئے، کیونکہ شہادت تو آپ کے لیے معراج تھی، لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ بلوچ قوم ایک سچے، مخلص اور درویش صفت انسان سے محروم ہو گئی ہے۔

واھگ، آپ کی یادیں، آپ کا نقشِ قدم اور آپ کا جذبہ مجھ سمیت تمام بلوچ قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

واھگ، اب تیری آواز تو سنائی نہیں دیتی، مگر تیری یادیں دل کے کسی کونے میں آج بھی زندہ ہیں۔ آپ کے ساتھ گزرے ہوئے دن شاید وقت کے ساتھ دھندلے پڑ جائیں، لیکن تیرا چہرہ جنہیں یاد کرنے کے لیے کسی تصویر کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ دل میں اس طرح محفوظ ہے جیسے کوئی پرانی دعا، جسے انسان خاموشی سے اپنے اندر دہراتا رہتا ہے۔

واھگ، بے شک آپ جسمانی طور پر ہم سے جدا ہو چکے ہیں، مگر آپ کی قربانی کا چراغ ہمارے جسم میں ہمیشہ روشن رہے گا۔

میدانِ جنگ میں جب دشمن کی گھیرابندی اور آگ و آہن کی برسات میں اس نے اپنی آخری سانسیں لیں، تو اس کا چہرہ کسی خوف کے بغیر تسلیم و رضا کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اس نے وطن یا نظریے کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ جسمانی موت دراصل ابدی زندگی کا آغاز ہے۔

دعا ہے اللہ پاک آپ کے اس درویشانہ جذبے کو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنائے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔