بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں پاکستان کوسٹ گارڈز نے 61 نایاب اور قیمتی شکاری باز برآمد کر لیے، جنھیں بعد ازاں محکمہ جنگلی حیات کے حوالے کرنے کے بعد آزاد کر دیا گیا۔
ضلع لسبیلہ میں محکمہ جنگلی حیات کے اسسٹنٹ کنزرویٹر حاصل بلوچ کے مطابق کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں نے یہ شکاری پرندے اوتھل چیک پوسٹ پر کارروائی کے دوران اپنی تحویل میں لیے۔ نایاب باز کوئٹہ سے کراچی جانے والی دو مسافر بسوں سے برآمد ہوئے، جہاں انھیں خفیہ طور پر منتقل کیا جا رہا تھا۔
حاصل بلوچ نے بتایا کہ پرندوں کو کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم ضبط کیے جانے کے بعد انھیں محکمہ جنگلی حیات کے سپرد کر دیا گیا۔ ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد تمام 61 بازوں کو ان کے قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ نایاب شکاری پرندوں، خصوصاً بازوں، کی خلیجی ممالک میں بڑی مانگ پائی جاتی ہے اور انھیں تربیت دے کر شکار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سردیوں کے موسم کے دوران آنے والے عرب شیوخ بھی تلور کے شکار میں انھی تربیت یافتہ شکاری پرندوں سے مدد لیتے ہیں، جس کے باعث ایسے پرندوں کی سمگلنگ ایک منافع بخش مگر غیر قانونی کاروبار سمجھی جاتی ہے۔
















































