غمخوار حیات اور دوسری تقویم – برزکوہی

70

غمخوار حیات اور دوسری تقویم

تحریر: برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

نوشکی میں دو زمانے چلتے ہیں۔ ایک وہ جسے سرکاری تقویم میں چھاپا جاتا ہے، جس میں مہینے اپنی مقررہ ترتیب سے آتے ہیں، تعطیلات اپنے دنوں پر واقع ہوتیں ہیں، دفاتر صبح کھلتے، شام کو بند ہوتے ہیں اور ہر نئے برس کے آغاز پر دیواروں سے پرانے کیلنڈر اتار کر نئے کیلنڈر آویزاں کردیئے جاتے ہیں۔ دوسرا زمانہ زمین کے ذرا نیچے بہتا ہے، اتنا نیچے کہ اسے گھڑی نہیں ناپ سکتی اور اتنا قریب کہ ہر شخص کے قدم اس پر پڑتے ہیں۔

اس دوسری تقویم میں برسوں کے نام نہیں، وہاں واقعات سے وقت شمار کیا جاتا ہے۔ فلاں کے اٹھائے جانے کے بعد کا تیسرا موسم، فلاں کی لاش ملنے سے پہلے کی سردیاں، اس رات کے بعد کی بہار جب گلی میں پہلی مرتبہ فوجی گاڑیاں دیر تک کھڑی رہیں، اس استاد کی موت کے بعد کا پہلا رمضان۔ شہر کے بوڑھے اسی تقویم میں عمر رسیدہ ہوتے ہیں اور مائیں اسی میں اپنے بیٹوں کی واپسی کا حساب رکھتی ہیں۔ سرکاری وقت آگے بڑھتا رہتا ہے، مگر قوم کا وقت جگہ جگہ رک جاتا ہے، جیسے کسی نے اس کی روانی میں کیلیں ٹھونک دی ہوں۔

محمد خان اسی دوسری تقویم کا آدمی تھا۔

ہم اسے غمخوار کہتے تھے، اور شاید ہم میں سے اکثر نے کبھی سنجیدگی سے نہیں سوچا تھا کہ ایک آدمی اپنے لیئے ایسا نام کیوں منتخب کرتا ہے جس میں دوسروں کے دکھ کی کفالت کا وعدہ پوشیدہ ہو؟

کسی نام کا بوجھ بھی شاید عمر کے ساتھ بڑھتا ہے۔ جوانی میں وہ محض تخلص ہوتا ہے، پھر رفتہ رفتہ آدمی کی پشت پر سوار ہوجاتا ہے، اس کے مزاج میں اترتا ہے، اس کے انتخاب کو متاثر کرتا ہے، یہاں تک کہ ایک روز معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے نام نہیں رکھا تھا بلکہ نام نے انسان کو اپنے مفہوم کے مطابق تراش لیا تھا۔ غمخوار کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وہ دوسروں کے رنج پر شعر کہنے والا شاعر نہیں رہا، وہ رنج کی اس اجتماعی ماہیت کا امین بن گیا جس میں کسی فرد کا دکھ الگ کرکے پہچانا نہیں جاسکتا۔ ہمارے ہاں غم کبھی خالصتاً شخصی نہیں رہتا۔ ایک گھر کا ماتم دوسرے گھر کے دروازے تک پہنچتے پہنچتے قومی حافظے کا حصہ بن جاتا ہے۔ ایک ماں کا انتظار ہزار ماؤں کی زبان میں اپنا مترادف ڈھونڈ لیتا ہے۔ ایک قتل اپنے مقتول سے بڑا ہوجاتا ہے۔

یہی تو محکومی کی سب سے خوفناک خاصیت ہے کہ وہ آدمیوں کو تنہا مارتے ہوئے بھی دکھ کو اجتماعی بناتا رہتا ہے۔

غمخوار کالج میں پڑھاتا تھا، کتابیں لکھتا تھا، ترجمے کرتا تھا، ادبی اداروں میں کام کرتا تھا۔ یہ سب درست ہے، مگر ہم نے بہت دیر بعد سمجھا کہ وہ دراصل ایک اور کام بھی کررہا تھا۔

وہ وقت کی مرمت کرتا تھا۔

محکوم قوم کے زمانے میں تسلسل سب سے پہلے زخمی ہوتا ہے۔ ایک نسل اپنے سے پہلے والی نسل تک پوری طرح نہیں پہنچ پاتی، زبان میں کچھ کڑیاں غائب ہوجاتی ہیں، کتابیں نہیں ملتیں، اصطلاحات پیدا نہیں ہوتیں، تاریخ کے بعض ابواب پر ایسی سفیدی پھیر دی جاتی ہے کہ آنے والے کو لگتا ہے وہاں کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔ غمخوار ان سفید مقامات پر جھکا رہتا۔ اسے خالی جگہ سے ایک عجیب قسم کی بے چینی تھی۔ وہ کہتا تھا کہ زبان میں میدان خالی ہیں اور انہیں آنے والوں کیلئے خالی نہیں چھوڑا جاسکتا۔

اس کا کمرہ مجھے ہمیشہ ایک ایسے مقام کی طرح یاد آتا ہے، جہاں کتابیں پڑھی نہیں جاتیں بلکہ آہستہ آہستہ معدنیات میں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ کاغذ میں نوشکی کی گرد اترتی، گرد میں انگلیوں کا لمس، لمس میں کسی دوسرے زمانے کی حرارت۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ پرانی کتاب اصل میں کاغذ نہیں رہتی، وہ اپنے قاریوں کے ہاتھوں، ان کے سانسوں، ان کی راتوں اور ان کے اندیشوں کا مرکب بن جاتی ہے۔ غمخوار کی میز پر پڑی کتابوں نے نہ جانے کتنے ایسے خاموش عناصر اپنے اندر جذب کئے ہوں گے۔ باہر ایک ریاست اپنی سرحدوں، چوکیوں اور فہرستوں میں مصروف تھی، اندر ایک آدمی اپنی زبان کی ناقص اور شکستہ کائنات کو مکمل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ ظاہراً مقابلہ مضحکہ خیز تھا۔ ایک طرف ادارے، بندوقیں، دفاتر، قانون، فہرستیں، وردیاں۔ دوسری طرف ایک میز، چند کتابیں اور ایسا آدمی جو لفظوں کی کمی سے پریشان تھا۔

مگر تاریخ ہمیشہ ظاہری تناسب کا احترام نہیں کرتی۔ بعض سلطنتیں اپنے پورے عہد کے ساتھ معدوم ہوجاتی ہیں اور کسی نامعلوم کمرے میں لکھا گیا ایک جملہ ان کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔

براہوئی میں لکھنا غمخوار کیلئے صرف مادری زبان سے محبت کا اظہار نہیں تھا۔ وہ ایک ایسی دنیا میں براہوئی کے اندر امکانات پیدا کررہا تھا جہاں چھوٹی زبانوں کو عموماً ماضی کا مسکن سمجھا جاتا ہے۔ جیسے ان میں لوک داستان تو ہوسکتی ہے مگر جدید فکر نہیں، گیت ہوسکتا ہے مگر فلسفہ نہیں، نوحہ ہوسکتا ہے مگر تنقید نہیں۔ غمخوار کا ہر ترجمہ شاید اسی مخفی تحقیر کی تردید تھی۔ وہ براہوئی کو دوسری زبانوں سے خیالات لاکر نہیں دے رہا تھا، وہ براہوئی کو اس کی اپنی وسعت یاد دلا رہا تھا۔

مگر اس کے اپنے نام کے گرد دائرہ تنگ ہوتا گیا۔ بعض فہرستوں کی ایک خاص بو ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے کبھی اپنا نام ان میں نہیں دیکھا انہیں وہ محض کاغذ معلوم ہوتی ہیں، لیکن جس دن آدمی اپنا نام کسی ایسی فہرست میں پڑھتا ہے جسے کسی دفتر نے اس کے بارے میں اس سے پوچھے بغیر مرتب کیا ہو، نام کی ماہیت بدل جاتی ہے۔ نام اب پکارے جانے کی چیز نہیں رہتا، نگرانی کی اکائی بن جاتا ہے۔ غمخوار کو بھی فہرست میں رکھا گیا۔ اس کا تبادلہ ہوا۔ اس پر نظر رکھی گئی۔ وہ جانتا تھا کہ ریاست اسے پڑھ رہی ہے، مگر اس طریقے سے نہیں جس طریقے سے قاری ادیب کو پڑھتا ہے۔ اسی لیئے وہ کبھی کبھی دوسرے ناموں میں چلا جاتا تھا۔ میں نے طویل عرصے تک قلمی نام کو محض تحفظ کی ایک تدبیر سمجھا، پھر ایک دن محسوس ہوا کہ محکومی میں قلمی نام کی نفسیات کہیں زیادہ ہولناک ہے۔ ایک انسان کو اپنے ہی وجود کے گرد خفیہ راستے بنانے پڑتے ہیں۔ وہ خود اپنے اندر ایک شہر تعمیر کرتا ہے جس میں ایک دروازے پر محمد خان رہتا ہے، دوسرے پر غمخوار، تیسرے کے پیچھے کوئی اور نام، اور ان سب کے بیچ ایک ہی شعور رات کی تاریکی میں سفر کرتا رہتا ہے۔ قابض کو شاید نام مطلوب تھا، مگر فکر ناموں کے درمیان سے نکل جاتی تھی۔ ایک مضمون کہیں اور نمودار ہوتا، ایک افسانہ کسی اور شناخت سے، لیکن باطن کی مٹی وہی رہتی۔ آدمی اپنے دستخط سے فرار پاسکتا ہے، اپنی حساسیت سے نہیں۔

غمخوار اپنی قومی ذمہ داری سے کبھی بیگانہ نہیں ہوا۔

میں اس فقرے کو اس کے بارے میں سب سے بڑا خراج سمجھتا ہوں، کیونکہ ہمارے عہد میں بیگانگی صرف کمزوری نہیں، ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ آدمی چاہے اپنے علم کو اس طرح پاکیزہ رکھ سکتا ہے کہ قوم کا خون اس کے دامن تک نہ پہنچے۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ سیاست گندی چیز ہے، ادب ارفع ہے، میں صرف حسن کی خدمت کرتا ہوں۔ ایسے لوگ اپنی جمالیات کو ایک محفوظ قلعہ بنالیتے ہیں اور پھر انہیں یہ دکھائی نہیں دیتا کہ قلعے کے باہر کون مارا جارہا ہے۔ غمخوار نے ادب کو پروپیگنڈا نہیں بنایا، مگر ادب کو معصومیت کا بہانہ بھی نہیں بنایا۔ شاید یہی اس کی فکری بلوغت تھی۔ قومی ذمہ داری اس کے یہاں نعرے کی صورت میں نہیں، کام کی صورت میں ظاہر ہوتی تھی۔ پڑھانا، لکھنا، ترجمہ کرنا، زبان میں نئے امکانات پیدا کرنا، ادبی ادارے قائم کرنا، نئی نسل کیلئے خالی میدان آباد کرنا۔ وہ آزادی کو محض مستقبل کی سیاسی حالت نہیں سمجھتا تھا، شاید غیر محسوس طور پر وہ اس کی تہذیبی تمہید لکھ رہا تھا۔ کیونکہ قوم آزادی سے پہلے بن رہی ہوتی ہے۔ ریاست بعد میں قائم ہوتی ہے۔

پھر مئی کا وہ دن آیا۔

ہماری دوسری تقویم میں اب اس دن کا نام ہے۔

16 مئی 2026۔

سرکاری کیلنڈر میں وہ محض ایک تاریخ ہوگی۔ ہمارے وقت میں وہ ایک شگاف ہے۔

کلی مینگل کے قریب گولیاں چلیں اور محمد خان زمین پر گرا۔ بلوچ قومی حافظے نے اس قتل کو کبھی ایک الگ تھلگ واردات کے طور پر قبول نہیں کیا۔ ہمارے لیئے اس کے پس منظر میں وہی طویل سایہ ہے، جو ناموں کو فہرستوں میں بدلتا ہے۔

مگر اس لمحے کے بعد ایک خطرہ ہمارے اندر بھی پیدا ہوا۔ ہم نے غمخوار کو شہید کہا، جو ہمارے حافظے کی زبان میں احترام کا بلند ترین درجہ ہے، مگر شہادت کبھی کبھی انسان کی باقی زندگی کو نگل لیتی ہے۔ تصویر آخری ہوجاتی ہے، واقعہ پورے وجود پر محیط ہوجاتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ غمخوار ہمیشہ زمین پر پڑا رہے۔ قاتل نے اسے ایک لمحے میں گرا دیا، ہمارا حافظہ اگر اسے اسی لمحے میں ہمیشہ کیلئے قید کردے تو یہ یاد نہیں، قتل کا دوام ہوگا۔

میں اسے میز پر واپس دیکھنا چاہتا ہوں۔

کسی کتاب پر جھکا ہوا، کسی ترجمے کے ایک لفظ سے ناخوش، کسی طالب علم کے ناقص جملے کی اصلاح کرتا ہوا، کسی دوست کے ساتھ بیٹھ کر زبان کے خالی میدانوں کی شکایت کرتا ہوا۔

شہید کو صرف اس کی موت سے یاد کرنا قاتل کو اس کی سوانح کا آخری مدیر بنادینا ہے۔ اسی لیئے موت کے بعد غمخوار ہمارے لیئے زیادہ پیچیدہ ہوگیا۔ وہ ایک شخص نہیں رہا، مگر میں یہ بھی نہیں کہنا چاہتا کہ وہ “خیال” بن گیا، کیونکہ یہ جملہ بہت آسان ہے۔ خیال مرنے والے کی کمی پوری نہیں کرتا۔ کتاب کسی انسان کے ہاتھ کی حرارت واپس نہیں لاسکتی۔ قتل کی سب سے گہری سفاکی یہی ہے کہ وہ موجودہ وجود کے ساتھ مستقبل کو بھی ختم کرتا ہے۔ ہم ان کتابوں کو گن سکتے ہیں جو غمخوار نے لکھیں، ان کتابوں کی تعداد کوئی نہیں جان سکتا جو ستر برس کی عمر تک وہ لکھ سکتا تھا۔ ہم اس کے موجود شاگردوں کو پہچان سکتے ہیں، مگر اس نوجوان کو نہیں جس سے وہ 2031 میں ملنے والا تھا اور جسے شاید صرف ایک جملہ ادیب بنادیتا۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ قابض کی اصل خواہش آدمیوں کو مارنا بھی نہیں، امکانات کو کم کرنا ہے۔ ایسے مستقبلوں کی تعداد گھٹانا جن میں قوم اپنے آپ کو مختلف صورت میں تصور کرسکے۔ ادیب اسی لیئے خطرناک ہوتا ہے کہ وہ امکان پیدا کرتا ہے۔

اسی لیئے اس کی یاد ہمارے لیئے ماتم سے زیادہ ایک محاسبہ ہے۔ اس نے جن خالی جگہوں کی نشاندہی کی تھی، ہم نے کتنی آباد کیں۔ اس نے اپنی زبان کیلئے جو اضطراب محسوس کیا، کیا ہم نے اسے صرف تقریروں میں محفوظ رکھا یا کام میں بھی بدلا؟ ہم شہیدوں سے محبت بہت کرتے ہیں، کبھی کبھی اس حد تک کہ ان کے نام ہمارے اپنے فرائض کو چھپا دیتے ہیں۔ نام دہراتے رہنا نسبتاً آسان ہے، وہ کام جاری رکھنا مشکل جس نے اس نام کو معنی دیا۔ غمخوار کو یاد کرنے کا مطلب شاید یہ نہیں کہ ہر سال اس کی تصویر کے سامنے روشنی جلائی جائے۔ شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ براہوئی میں وہ کتاب لکھی جائے جو ابھی موجود نہیں، وہ علمی اصطلاح پیدا کی جائے جس کی کمی اسے محسوس ہوتی، وہ طالب علم تیار ہو جو اپنی زبان کو احساسِ کمتری کے بغیر دنیا کے سامنے رکھ سکے۔

نوشکی کی دوسری تقویم میں اب غمخوار کے بعد کا زمانہ چل رہا ہے۔ سرکاری کیلنڈر شاید کئی بار بدل چکا ہوگا، مگر قوموں کے کیلنڈر اتنی جلدی نہیں بدلتے۔ بعض تاریخیں برسوں تک جاری رہتی ہیں۔ کبھی ایک شہید کا دن ایک پوری نسل کی عمر جتنا طویل ہوجاتا ہے۔ لیکن شاید غمخوار کی یاد کا حق یہ نہیں کہ ہم ہمیشہ اسی دن میں مقیم رہیں۔ وہ خود خالی جگہیں بھرنے کا آدمی تھا۔ اس کے بعد زندہ رہنے کا اخلاق بھی شاید یہی ہے کہ ہم تاریخ کے شگاف کے گرد بیٹھ کر اسے دیکھتے نہ رہیں، اس میں معنی، کتابیں، زبان اور آئندہ نسل کا شعور بھرنا شروع کریں۔

اور تب ممکن ہے ایک روز دوسری تقویم میں ایک نیا زمانہ شروع ہو۔ اس روز کوئی نوجوان کسی کتاب کے پہلے صفحے پر اپنا نام لکھے گا اور اسے چھپانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ وہ اپنی زبان میں اپنی سرزمین، اپنی تاریخ اور اپنے مستقبل کے بارے میں لکھے گا اور کسی فہرست میں اس کا نام صرف اس لیئے شامل نہیں ہوگا کہ اس نے اپنے لوگوں کو اپنے ہی نام سے پکارا ہے۔ شاید آزادی کا سب سے لطیف تصور یہی ہے۔ آدمی اپنے نام، اپنی زبان اور اپنے حافظے کے ساتھ خفیہ نہ رہے۔

اس دن غمخوار حیات پھر یاد آئے گا، مگر شاید شہید کے طور پر نہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔