گلزادی بلوچ عمر قید سزا: بی وائی سی نے عدالتی فیصلہ مسترد کردیا

21

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کو پہلے سے طے شدہ فیصلہ اور پرامن بلوچ سیاسی آوازوں کے خلاف ریاستی کارروائیوں کا تسلسل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

بی وائی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج ون قادر شاہ بخاری نے کیس نمبر ۱۵/۲۲ میں گلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا سنائی، جبکہ تنظیم نے اس مقدمے کی عدالتی کارروائی پر پہلے ہی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ ۸ ستمبر ۲۰۲۶ کو بی وائی سی نے نشاندہی کی تھی کہ جج نے متعدد مواقع پر دباؤ میں ہونے اور گلزادی بلوچ کو عمر قید یا سزائے موت سنائے جانے کے امکانات کا ذکر کیا تھا۔

تنظیم کے مطابق مقدمے کی تکمیل سے قبل دیے گئے یہ بیانات بے گناہی کے مفروضے اور عدالتی آزادی کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ آج کا فیصلہ ان خدشات کی تصدیق کرتا ہے۔

بی وائی سی نے کہا کہ ۷ ستمبر کو عدالتی ہڑتال اور وکیلِ صفائی کی عدم موجودگی کے باوجود عدالت نے کارروائی جاری رکھی اور دفاعی نمائندگی کے بغیر ایک گواہ پر جرح کی گئی، جو آئین کے آرٹیکل ۱۰ اے اور شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے (آئی سی سی پی آر) کے آرٹیکل ۱۴ (۳) (ب) اور (د) میں دی گئی منصفانہ ٹرائل کی ضمانتوں کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتی۔

بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران بی وائی سی کی قیادت کے خلاف یہ تیسری عمر قید کی سزا ہے، اس سے قبل جون میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہجی کو بھی عمر قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

تنظیم نے اسے عدلیہ کے ذریعے مقدمات کے میرٹ پر فیصلے کرنے کے بجائے تحریک کی قیادت کو ہٹانے کے رجحان سے تعبیر کیا۔

بی وائی سی نے فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو جج سزا سنانے کے لیے دباؤ کا اعتراف کرے، اسے غیر جانب دار نہیں سمجھا جا سکتا، جبکہ غیر جانب داری ثابت کرنے کی ذمہ داری عدلیہ پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ سزا پانے والے افراد پر۔

بیان میں کہا گیا کہ سزا کے باوجود گلزادی بلوچ اور بی وائی سی کی قیادت اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور سچ، لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچ حقوق کے لیے ان کی پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔

بی وائی سی نے اپیلٹ عدالتوں اور آئینی اداروں سے مطالبہ کیا کہ گلزادی بلوچ کی عمر قید کی سزا کا آزادانہ اور فوری جائزہ لیا جائے، متعلقہ جج کے طرزِ عمل کی تحقیقات کی جائیں اور قانونی عمل کی بحالی یقینی بنائی جائے۔

تنظیم نے کہا کہ کسی بھی ادارے کو عدالتی عمل کو سیاسی سزا کے آلے میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔