کوئٹہ: بی وائی سی رہنما گلزادی بلوچ کو قتل کیس میں عمر قید کی سزا

51

گلزادی بلوچ مرکزی ملزمہ نہیں تھیں، سزا سے قبل دفعہ ۳۴۲ کے تحت بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ وکیل گلزادی بلوچ 

کوئٹہ ایڈیشنل سیشن جج ون سید قادر شاہ بخاری نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رکن گلزادی بلوچ کو قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنا دی ہے، جبکہ ان کی قانونی ٹیم نے عدالتی کارروائی اور سزا کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

گلزادی بلوچ کی وکلاء کے مطابق مقدمے کی ایف آئی آر اکتوبر 2022 میں پولیس اسٹیشن مچھ میں درج کی گئی تھی گلزادی بلوچ اس مقدمے میں مرکزی ملزمہ نہیں تھیں اور قتل کے واقعے میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔

ایڈووکیٹ اسرار بلوچ نے بتایا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کی ہدایت پر مقدمہ مختلف عدالتوں میں منتقل کیا گیا، تاہم دیگر ججز نے مقدمے کی سماعت سے معذرت کی، جس کے بعد ایڈیشنل سیشن جج ون کی عدالت میں کارروائی جاری رہی۔

وکیل کے مطابق آج سزا سنائے جانے کے وقت گلزادی بلوچ اور ان کی قانونی ٹیم عدالت میں موجود نہیں تھی, عدالت پہنچنے پر جج بھی موجود نہیں تھے، جبکہ ریڈر نے وکلا کو عدالتی حکم نامہ فراہم کرتے ہوئے گلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا سنائے جانے سے آگاہ کیا۔

وکلاء کے مطابق سزا سنانے سے قبل ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۳۴۲ کے تحت گلزادی بلوچ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا اور نہ ہی وکلا کو حتمی دلائل پیش کرنے کا موقع دیا گیا، ان کے بقول عدالتی حکم نامہ پہلے ہی تیار تھا۔

قانونی ٹیم نے عدالتی کارروائی اور سزا سنانے کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے میں قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور وکلاء نے نے گزشتہ دنوں گلزادی بلوچ کے مقدمے میں عدالتی جانبداری، دفاع کے حق سے محرومی اور ضمانت کی درخواستوں میں طویل تاخیر پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ 

بی وائی سی کا کہنا تھا ۷ ستمبر کو وکیلِ صفائی کی عدم موجودگی کے باوجود مقدمے کی کارروائی جاری رکھی گئی اور دفاعی وکیل کی نمائندگی کے بغیر ایک گواہ پر جرح کی گئی۔

بی وائی سی کے مطابق عدالت ریاستی دباؤ اور اثر کے تحت بی وائی سی قیادت کے خلاف مقدمہ سنا رہی ہے۔