بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں کوئٹہ اور مستونگ سے تین افراد کے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ کوئٹہ سے ایک شخص چھ ماہ بعد بازیاب ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق کوئٹہ سے سفر خان ولد محمد حسن کو 16 اگست 2026 کو رات تقریباً 4 بجے ان کے گھر سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔ سفر خان پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور ہیں۔
دوسرے واقعے میں کوئٹہ کے منوجان روڈ، ہدہ سے 21 سالہ حافظ جمیل احمد ولد چھٹا خان کو 9 ستمبر 2026 کو رات تقریباً 2:30 بجے ان کے گھر سے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا۔ حافظ جمیل احمد ٹریلر ماسٹر ہیں۔ ان کے اہلخانہ کے مطابق ان کی جبری گمشدگی میں سی ٹی ڈی اور آئی ایس آئی کے اہلکار ملوث ہیں۔
اسی طرح مستونگ کے علاقے کردگاپ سے 21 سالہ عبدالکریم ولد غلام نبی کو 21 اگست 2025 کو رات تقریباً 3 بجے ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔ عبدالکریم پیشے کے اعتبار سے دکاندار ہیں۔
دوسری جانب کوئٹہ کے کلی قمبرانی، سریاب روڈ کے رہائشی سیف اللہ ولد عطااللہ، جنہیں 12 مارچ 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، 11 ستمبر 2026 کو ہدہ جیل، کوئٹہ سے بازیاب ہو گئے۔


















































