وڈھ میں شادی کی تقریب پر فائرنگ اور چار شہریوں کا قتل بلوچستان میں ریاستی قتلِ عام کے منصوبے کا تسلسل ہے۔بی وائی سی

21

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہےکہ وڈھ کے کلی یار محمد سونارو میں شادی کی ایک تقریب کے دوران پاکستانی فوج کی براہِ راست فائرنگ نے ایک گھر کی خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا۔ ایف سی کارندوں کی براہِ راست فائرنگ سے چار شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ کئی دیگر افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ سونارو کا سانحہ بلوچستان میں ریاستی قتلِ عام کے منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت بلوچ عوام کو بلاامتیاز روزانہ کی بنیاد پر قتل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ریاستِ پاکستان کی یہ فسطائیت اور جبر کسی ایک واقعے تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسی جابرانہ پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت بلوچ قوم کو شناخت کی بنیاد پر خوف، خون، دہشت اور اجتماعی سزا کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچستان میں عام شہریوں کا قتلِ عام، معصوم بچوں کی لاشیں اور گولیوں سے چھلنی ہر جسم ریاستی ظلم کی گواہی دے رہا ہے۔ اس جبر کے خلاف خاموشی ظلم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔ سونارو میں متاثرین شہداء کی میتیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں، جو گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے جاری ہے۔

مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی لواحقین کے دھرنے کی حمایت کرتی ہے اور ذی شعور عوام سے درخواست کرتی ہے کہ وہ ان کی آواز بنیں، متاثرین کی آواز میں اپنی آواز شامل کریں اور احتجاج کو تقویت دیں، کیونکہ جبر کے خلاف متاثرین کی ہر آواز ہم سب کے لیے زندگی کے مطالبے کے مترادف ہے۔

آخر میں کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بلوچستان میں شہریوں کے خلاف جاری ریاستی تشدد، طاقت کے بے جا استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور ریاستِ پاکستان کو عالمی فورمز پر جوابدہ ٹھہرائیں۔