بلوچستان کا زخم: ریاست، سردار اور مظلوم بلوچ عوام – نمیران بلوچ

59

بلوچستان کا زخم: ریاست، سردار اور مظلوم بلوچ عوام

تحریر: نمیران جان

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان کی جغرافیہ ہی مزاحمت ہے۔ یہاں کی ہر چٹان، ہر درہ ایک ایسی قوم کی گواہی دیتا ہے جس نے کبھی غلامی کو تقدیر نہیں مانا۔ مگر اس مزاحمت کے بیچ ایک اندرونی تضاد ہے جسے اب نظر انداز کرنا خود فریبی ہوگی۔

تاریخ میں سردار کو “نوکر کا نوکر” کہا جاتا تھا۔ روایتی بلوچ سرداری نظام “قراردادی جمہوریت” پر مبنی تھا۔ سردار کا اختیار خدا داد نہیں تھا، وہ جرگے، رواج اور اجتماعی رضامندی سے مشروط تھا۔ اس کا کام قوم کی خودمختاری کو بچانا، بیرونی جارحیت کے خلاف صف باندھنا اور اندرونی انصاف کو یقینی بنانا تھا۔ لیکن ریاستوں کے ساتھ تعلقات نے اس ادارے کی ماہیت بدل دی۔

1839 سے 1947 تک کا نوآبادیاتی دور اس تبدیلی کا پہلا مرحلہ تھا۔ برطانوی سامراج نے بلوچستان میں داخل ہوتے ہی “Divide and Rule” کی پالیسی اپنائی اور سرداری نظام کو ایک انتظامی ٹول میں بدل دیا۔ اسی دور میں دو دھارے ابھرے۔ ایک طرف 1839 میں قلات کے خان میر مہراب خان دوم نے انگریز کے حملے کے خلاف جنگ لڑی اور شہادت پائی۔ میر بہرام خان نوشیروانی نے 1840 میں مستونگ میں انگریز فوج کو شکست دی۔ 19ویں اور 20ویں صدی میں مری قبیلے کی 3 بڑی بغاوتیں 1840، 1880، 1916 اور بگٹی قبیلے کی مسلح مزاحمت نے ثابت کیا کہ بلوچ قوم نے کبھی بیرونی تسلط کو قانونی حیثیت نہیں دی۔ میر نصیر خان اول 1749-1794 اگرچہ پہلے کا دور تھا، مگر ان کی کنفیڈریشن آج بھی بلوچ سیاسی خودمختاری کا ریفرنس پوائنٹ ہے۔ دوسری طرف 1876 کے معاہدہ مستونگ کے بعد قلات ریاست کو “برطانوی تحفظ” میں دے دیا گیا۔ اس کے بدلے انگریز نے کئی سرداروں کو “سردارِ بہادر” کے خطاب، وظیفے اور جاگیریں دیں۔ ان کا کام اب قوم کی نمائندگی نہیں، بلکہ سرحدوں کی نگرانی اور انگریز مخالف تحریکوں کو کچلنا تھا۔ یہیں سے “سردار” اور “ریاست کے کارندے” کا فرق مٹنا شروع ہوا۔

1947 کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ریاست نے بلوچستان کو ضم تو کر لیا، مگر اعتماد نہیں جیتا۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ریاست نے وہی نوآبادیاتی ماڈل اپنایا۔ سرداروں کو ترقیاتی فنڈ، اسمبلی کی سیٹیں اور انتظامی اختیارات دے کر “اسٹیٹس کو” کا محافظ بنا دیا گیا۔ جب 1948، 1958، 1973 اور 2004 میں قومی تحریکیں اٹھیں تو انہی سرداروں نے ریاست کے بیانیے کو دہرانے کا کام کیا۔ “قبضہ کرو” کہا گیا تو انہوں نے اپنی ہی زمینوں پر پہرہ دیا۔ “خاموش کرو” کہا گیا تو یونیورسٹیوں، پریس اور نوجوانوں پر قدغن لگائی۔ وسائل کے معاہدے اسلام آباد کے ایوانوں میں طے ہوئے اور اس کی قیمت گوادر، خضدار، آواران اور دشت کے محنت کش نے محرومی کی صورت میں چکائی۔

آج ہم تیسرے مرحلے میں ہیں۔ موجودہ سرداری نظام اپنی آخری مرحلے میں ہے۔ اب یہ نہ روایت ہے نہ اختیار۔ یہ ایک “ٹھیکہ داری نظام” بن چکا ہے۔ ترقیاتی بجٹ، ٹھیکے اور پروٹوکول کے بدلے توقع یہ ہے کہ سردار اپنے علاقے میں “سکیورٹی” یعنی سیاسی شعور کو دبائیں۔ ریاست نے جب مقصد پورا کر لیا تو انہی لوگوں کو “غیر فاعل” اور “مشکوک” قرار دے کر سائیڈ لائن کر دیا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ آلہ کار کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی۔

اس پورے عمل نے بلوچ سماج کو دو سطح پر توڑا۔ ریاست نے قبیلے کو قبیلے کے خلاف کھڑا کیا تاکہ اجتماعی یکجہتی جنم نہ لے سکے۔ اور جو نوجوان “حقِ خودارادیت” اور “وسائل پر حقِ ملکیت” کا سوال لے کر اٹھا، اسے “ریاست مخالف” کہہ کر انہی سرداروں کے ذریعے ریاستی اداروں کے حوالے کیا گیا۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی گیس یہاں سے نکلتی ہے مگر چولہا کسی اور کا جلتا ہے۔ ریکوڈک اور سیندک کی معدنیات دوسروں کی جی ڈی پی بڑھاتی ہیں اور یہاں کا انسان آج بھی پینے کے پانی اور بنیادی صحت کو ترستا ہے۔

بلوچ قوم اب “تقدیسِ زخم” سے نکل کر “تجزیہِ زخم” کی طرف آ رہی ہے۔ سقراط کا فقرہ ہے: “غیر آزمودہ زندگی قابلِ زیست نہیں”۔ اسی طرح غیر سوال شدہ سماج قابلِ بقا نہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم کسی موروثی علامت کے سائبان تلے نہیں، اپنے اجتماعی ضمیر کے جھنڈے تلے کھڑے ہوں۔

بلوچستان کو جاگیر نہیں، جوابدہی چاہیے۔
بلوچستان کو پروٹوکول نہیں، انصاف اور مساوات چاہیے۔
بلوچستان کو سرپرستی نہیں، خودمختاریِ فیصلہ چاہیے۔

کیونکہ فلسفے کا اصول ہے، اختیار تب ہی مشروع ہے جب وہ جوابدہی سے بندھا ہو۔ جہاں طاقت ہو اور احتساب نہ ہو، وہاں استبداد جنم لیتا ہے۔ چاہے وہ استبداد ریاست کا ہو یا کسی فرد کا۔

بلوچستان کا مستقبل اب کسی قلعے کی دیوار میں مقید نہیں۔ وہ اس استاد کے چاک میں ہے جو تاریکی میں بھی مزاحمت کا حرف لکھتا ہے۔ وہ اس ماں کی لوری میں ہے جو بیٹے کو غیرت کے ساتھ تنقیدی عقل بھی دیتی ہے۔ وہ اس نوجوان کے سوال میں ہے جو اب خوف سے نہیں، دلیل سے بات کرتا ہے۔

کیونکہ حقیقی آزادی وہی ہے جہاں قوم اپنی تقدیر کی خود مصنف ہو۔ اور بلوچ قوم اب اپنی تقدیر خود لکھنا چاہتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔