زنِ مزاحم، تکوینِ ارادہ اور تشکیلِ وجدانِ قومی
تحریر: برزکوہی
دی بلوچستان پوسٹ
کسی قومی مزاحمت کی وسعت کا تعین محض اس امر سے نہیں ہوتا کہ اس کے زیرِ اثر کتنا جغرافیہ ہے، اس کے پاس کتنے کارکن ہیں، اس کی تنظیمی ساخت کتنی وسیع ہے یا اس کے نعروں میں آزادی کا مفہوم کس قدر بلند آہنگ ہے۔ کسی تحریک کی حقیقی وسعت کا زیادہ کڑا پیمانہ یہ ہے کہ وہ اپنے سماج کے کتنے حصوں کو تاریخ کا صاحبِ ارادہ فاعل تسلیم کرتی ہے اور کتنے حصوں کو ابھی تک تاریخ کے حاشیئے پر بطور تماشائی، معاون، وارث یا منتظر قائم رکھتی ہے۔ عورت کا سوال اسی لیئے کسی قومی تحریک کا ضمنی یا سماجی سوال نہیں بلکہ اس کی داخلی ماہیت، اس کے تصورِ قوم اور اس کے مستقبل کے سیاسی اخلاق کا سوال ہے۔ جو تحریک عورت کو صرف ماں، بہن، بیوی، شہید کی وارث، اسیر کی منتظر یا کسی مرد مزاحمت کار کی پشت پر قائم خاموش قوت سمجھتی ہے، وہ خواہ اپنی سیاسی لغت میں کتنی ہی انقلابی کیوں نہ ہو، اپنے تصورِ انسان میں ابھی تک اسی قدیم سماجی ساخت کی اسیر ہے جس کے خلاف وہ تاریخ کو بدلنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ عورت اگر قوم کا جزو ہے تو قوم کی تقدیر پر اس کا حق بھی اتنا ہی اصیل ہے جتنا مرد کا، اور اگر قومی آزادی سے مراد محض اقتدار کی ایک قوت سے دوسری قوت کو منتقلی نہیں بلکہ قوم کا اپنے وجود، زمین، وسائل، فیصلے اور مستقبل پر دوبارہ حقِ تصرف حاصل کرنا ہے، تو اس حقِ تصرف کی تعریف ہی ناقص ہے اگر قوم کی نصف آبادی کو اس کا موضوع تو سمجھا جائے مگر اس کا صاحبِ اختیار فاعل نہ مانا جائے۔
اس امر کو ابتدا ہی میں صاف کردینا چاہیئے کہ عورت کی مزاحمت میں شرکت کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ عورت بھی مرد جتنی بہادر، ثابت قدم یا جان نثار ہوسکتی ہے۔ ایسا سوال اپنی اساس ہی میں ناقص ہے، کیونکہ اس میں مرد کو پہلے ہی شجاعت، عقل، تحمل اور سیاسی استعداد کا معیار تسلیم کرلیا جاتا ہے اور عورت کو اپنے وجود کی اہلیت اسی معیار پر ثابت کرنا پڑتی ہے۔ یہ مساوات نہیں، مردانہ معیار کی توسیع ہے۔ اصل سوال عورت کی بہادری کا نہیں، اس کی سیاسی اہلیت اور حقِ شرکت کا ہے۔ کسی بلوچ عورت کو اپنی قوم کی تقدیر میں حصہ لینے کا استحقاق کسی تنظیم، کسی قائد، کسی خاندان یا کسی مرد رفیق کی طرف سے عطا نہیں کیا جاتا۔ یہ استحقاق اس کے وجود، اس کی قومیت اور اس کی انسانی حیثیت میں پہلے ہی مضمر ہے۔ قومی جدوجہد اگر واقعی قومی ہے تو عورت کی شمولیت اس پر احسان نہیں، اس کے اپنے دعوے کی منطقی تکمیل ہے۔ جو قومی تحریک عورت کو شریک کرکے اپنے آپ کو فیاض سمجھتی ہے، وہ ابھی تک عورت کو برابر نہیں سمجھتی، کیونکہ مساوات عطیہ نہیں ہوتی، تسلیم کی جاتی ہے۔
تاہم محض دروازہ کھول دینا بھی آزادی نہیں۔ تاریخ میں عورت کو بارہا انقلاب، جنگ، قحط، محاصرے اور قومی بحران کے زمانوں میں پکارا گیا، اس سے قربانی لی گئی، اس کے حوصلے کو تمثیل بنایا گیا، مگر نئے نظم کے استحکام کے بعد اسے پھر اسی پرانے سماجی مقام کی طرف دھکیل دیا گیا جہاں سے اسے وقتی ضرورت کے تحت باہر بلایا گیا تھا۔ اسلیئے عورت کی شمولیت کا اصل معیار یہ نہیں کہ کسی تحریک میں خواتین کی تعداد کتنی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس حیثیت سے موجود ہیں۔ کیا وہ فیصلہ سازی میں شریک ہیں؟ کیا وہ سیاسی فکر کی تشکیل میں حصہ لیتی ہیں؟ کیا ان کا اختلاف تنظیمی بلوغت کا حصہ سمجھا جاتا ہے یا نافرمانی؟ کیا وہ کسی شعبے کی قیادت کرسکتی ہیں؟ کیا ان کی اہلیت جنس سے مقدم سمجھی جاتی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا وہ خود معنی پیدا کرسکتی ہیں، یا ان کیلئے معنی پہلے سے مرتب کردیئے جاتے ہیں؟ اگر عورت صرف غیر معمولی قربانی کے ایک لمحے میں نمایاں ہو، لیکن روزمرہ سیاسی، فکری، تنظیمی، ابلاغی، سفارتی، تعلیمی، انتظامی اور تحقیقی عمل میں اس کا مقام ثانوی رہے، تو یہ مساوات نہیں بلکہ قدیم نابرابری کی جدید صورت ہے۔
یہیں قربانی کے تصور کی ازسرِنو تعبیر بھی ناگزیر ہوجاتی ہے۔ قومی تحریک قربانی کے بغیر نہیں چلتی، مگر قربانی کو سیاسی شعور کا اعلیٰ ترین یا واحد معیار بنا دینا نہایت خطرناک ہے، خصوصاً عورت کے باب میں۔ کسی عورت کے انتہائی اقدام کو اس کی پوری سیاسی زندگی پر غالب کردینا، اس کے شعور کو ایک لمحۂ مرگ میں منجمد کردینا ہے۔ شاری ہو، بانی ہو، سمعیہ ہو یا کوئی دوسری بلوچ بیٹی جس نے اپنی زندگی کے بارے میں کوئی انتہائی فیصلہ کیا، اس عمل کو صرف اس کے انجام سے سمجھنا اس کے سیاسی وجود کی تحقیر ہے۔ اصل معنی اس طویل ذہنی سفر میں مضمر ہوتے ہیں جس میں مطالعہ، انتظار، تذبذب، ضبط، انتخاب، ذاتی کشمکش، قومی شعور اور اپنے فیصلے کی ذمہ داری قبول کرنے کی قوت شامل ہوتی ہے۔ اگر بعد کی نسل اس پورے شعوری سفر کو چھوڑ کر صرف آخری منظر کی نقل کرے تو وہ کسی نقشِ قدم کی پیروی نہیں کرتی بلکہ تاریخ کو علامت میں اور شعور کو تقلید میں تبدیل کرتی ہے۔
اسی طرح مساوات کا مطلب مرد اور عورت کے تاریخی تجربے کو مصنوعی طور پر یکساں قرار دینا بھی نہیں۔ انسانی قدر میں کوئی فرق نہیں، سیاسی حق میں کوئی فرق نہیں، ذہانت، عزم اور جرات پر کسی جنس کی اجارہ داری نہیں، لیکن سماج نے دونوں کی پرورش یکساں نہیں کی۔ عورت کی نقل وحرکت محدود کی گئی، اس کے جسم کو خاندانی وقار کا میدان بنایا گیا، اس کی خواہش کو شرم، اس کے غصے کو بدتمیزی، اس کے اختلاف کو سرکشی، اس کے اعتماد کو گستاخی اور اس کی آزادی کو خطرہ قرار دیا گیا۔ ایسی سماجی تشکیل صرف ذہن پر اثر نہیں ڈالتی، جسم کی حرکات، آواز کی بلندی، نگاہ کے استحکام، فیصلہ کرنے کی جسارت، خطرہ قبول کرنے کی صلاحیت اور اپنے لیئے جگہ طلب کرنے کے طریقوں تک میں سرایت کرتی ہے۔ اسلیئے حقیقی مساوات فرق کا انکار نہیں کرتی بلکہ فرق کی اصل دریافت کرتی ہے۔ وہ پوچھتی ہے کہ یہ فرق فطرت نے پیدا کیا یا سماجی اقتدار نے؟ کہاں جسمانی حقیقت ہے اور کہاں صدیوں کی تربیت؟ کہاں انسانی کمزوری ہے اور کہاں مسلط کردہ احساسِ کمتری؟
عورت سے یہ کہنا کہ چونکہ وہ برابر ہے اسلیئے اسے کسی مخصوص توجہ، تحفظ، تربیت یا ادارہ جاتی ضمانت کی ضرورت نہیں، بظاہر مساوات اور باطن میں ناانصافی ہوسکتی ہے۔ تاریخی عدم مساوات کا ازالہ صرف شکلی برابری سے نہیں ہوتا۔ جس شخص کو صدیوں کے سماجی نظم نے محدود کیا ہو، اسے صرف یہ کہہ دینا کہ اب دروازہ سب کیلئے یکساں کھلا ہے، کافی نہیں۔ عورت کیلئے قابلِ اعتماد شکایتی نظام، ہراسانی اور استحصال سے حقیقی تحفظ، سیاسی وفکری تعلیم، اعتماد کے ساتھ اختلاف کی گنجائش، اہلیت کی بنیاد پر ذمہ داری تک رسائی اور قیادت تک پہنچنے کا غیر امتیازی راستہ درکار ہے۔ یہ رعایت نہیں، مساوات کی مادی شرائط ہیں۔
یہاں تنظیمی کلچر، قومی تشکیل سے جدا نہیں رہتی۔ آزادی کی تحریک محض ایک موجودہ ریاستی اقتدار کے خلاف مسلح یا سیاسی مزاحمت نہیں ہوتی، وہ اپنی روزمرہ ساخت میں آنے والے سماج کے ابتدائی خدوخال بھی تشکیل دیتی ہے۔ اگر تحریک کے اندر وہی صنفی تحقیر، وہی شخصی اقتدار، وہی اقربا پروری، وہی دروغ گوئی، وہی منافقت، وہی حسد، وہی خودغرضی، وہی طاقت کا بے جا استعمال، اور عورت کو ملکیت یا رعیت سمجھنے کا وہی قدیم مزاج برقرار رہے تو آزادی کی جدوجہد مستقبل کی تربیت گاہ نہیں رہتی، پرانے سماج کی ایک زیادہ منظم توسیع بن جاتی ہے۔
عورت کیلئے بھی اصل منزل کسی تحریک کی “خاتون کارکن” بن جانا نہیں ہونی چاہیئے۔ اسے سیاسی کردار بننا ہے۔ اس کا مطالعہ اتنا وسیع ہو کہ وہ اپنی قیادت سے اختلاف کرسکے، اس کا فکری شعور اتنا پختہ ہو کہ نعرے اور استدلال میں امتیاز کرسکے، اس کی تاریخی آگہی اتنی گہری ہو کہ کسی شخصیت کو عقیدت کے باعث تنقید سے ماورا نہ سمجھے، اور اپنی قدر کا احساس اتنا مستحکم ہو کہ قربانی کو خودفنا کے شوق سے جدا رکھ سکے۔ عورت اگر مزاحمت میں داخل ہوکر بھی اپنی رائے کیلئے کسی مرد کی تصدیق کی محتاج رہے، اگر اس کی سیاسی شناخت کسی تعلق یا رومانوی وابستگی میں تحلیل ہوجائے، اگر اختلاف پر اس کی وفاداری مشکوک ٹہرائی جائے، یا اسے قیادت کے سامنے سوال اٹھانے کیلئے پہلے اپنی قربانیوں کا حساب دینا پڑے، تو اس نے ماحول بدلا ہے، سیاسی حیثیت نہیں۔
اس کا دوسرا اور زیادہ دشوار پہلو مرد کارکن کی تربیت ہے۔ عورت کی شمولیت عورت کو بدلنے کا یک طرفہ منصوبہ نہیں ہوسکتی، مرد کو بھی اپنی تاریخی تربیت سے بغاوت کرنا ہوگا۔ وہ مرد جو جلسے میں عورت کی آزادی کا نعرہ لگاتا ہے مگر گھر میں اپنی بہن کے فیصلے سے خوف کھاتا ہے، اپنی تنظیم میں خاتون ساتھی کی بہادری پر فخر کرتا ہے مگر نجی زندگی میں عورت کو تابع دیکھنا چاہتا ہے، اس کے اندر انقلاب اور روایت ابھی ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں۔
ایک انتہائی اہم پہلو یہ ہے کہ عورت کی آزادی کو تنظیمی ملکیت میں تبدیل نہ کردیا جائے۔ اگر روایتی خاندان کہتا تھا کہ عورت کے فیصلے پر باپ، بھائی یا شوہر کا حق ہے اور نئی سیاسی ساخت یہ کہنے لگے کہ اب اس کی ذاتی زندگی پر مکمل اختیار تنظیم کا ہے، تو حاکم ضرور بدلا ہے، حاکمیت کی منطق نہیں۔ قومی جدوجہد فرد سے نظم، ذمہ داری، رازداری، اجتماعی فیصلے کے احترام اور بعض ذاتی ترجیحات کی قربانی طلب کرسکتی ہے، مگر وہ انسان کی کامل شخصی خودمختاری کو ضبط کرکے آزادی کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ محبت، رفاقت، شادی اور نجی زندگی بذاتِ خود غیر انقلابی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعلقات طاقت کے غیر مساوی رشتے پیدا کرتے ہیں، کیا ان میں آزاد رضامندی موجود ہے، کیا ذاتی مفاد اجتماعی ذمہ داری کو نگل رہا ہے، اور کیا کسی کا اختیار دوسرے کی آزادی کو منسوخ کررہا ہے۔ ان سوالوں کا جواب انقلابی اخلاق سے پیدا ہوگا، محض ممنوعات کی فہرست سے نہیں۔
عورت کو بالخصوص مزاحمت کی اس رومانویت سے محتاط رہنا چاہیئے جو موت، جدائی اور آخری قربانی کو ہمیشہ زندگی، تربیت، مطالعہ اور طویل خدمت سے زیادہ تابناک بناکر پیش کرتی ہے۔ کبھی کبھی مرنا ایک لمحے کا فیصلہ ہوتا ہے، مگر زندہ رہ کر بیس برس ایک مقصد کی خدمت کرنا روزانہ کا فیصلہ ہے۔ قوموں کی تشکیل صرف انتہائی واقعات سے نہیں ہوتی۔ کتاب پڑھنے، تحقیق کرنے، نئی نسل کو تربیت دینے، سیاسی مقدمہ مرتب کرنے، قیدی خاندانوں کو سنبھالنے، زبان محفوظ رکھنے، سفارتی محاذ پر استقامت دکھانے، ادارے بنانے، اپنی غلطی تسلیم کرنے اور برسوں تک غیر نمایاں ذمہ داری نبھانے میں بھی مزاحمت موجود ہوتی ہے۔
اسی لیئے عورت کیلئے مزاحمت کا کوئی ایک محاذ نہیں ہوسکتا۔ وہ جنگی محاذ پر ہو، وہ سیاسی فکر میں ہو، صحافت وابلاغ میں، تعلیم و تحقیق میں، سفارت و بین الاقوامی رابطہ کاری میں، سماجی تنظیم میں، ثقافت و ادب میں، علاج و امداد میں، انتظام و منصوبہ بندی میں، تاریخ نویسی میں یا فیصلہ سازی کے اعلیٰ ترین مراتب پر۔ اصول صرف ایک ہونا چاہیئے کہ ذمہ داری جنس کی بنیاد پر نہیں، استعداد، شعور، تربیت، کردار اور قابلیت کی بنیاد پر دی جائے۔ عورت کیلئے الگ گوشہ بنانا بعض مخصوص حالات میں انتظامی ضرورت ہوسکتی ہے، مگر اگر وہ مستقل اصول بن جائے تو وہی دیوار پھر تعمیر ہوجاتی ہے جسے گرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
قومی تشکیل کا مفہوم بھی اسی نسبت سے زیادہ واضح ہوتا ہے۔ قوم صرف مشترک دشمن سے پیدا نہیں ہوتی۔ محکومی مشترک ہوسکتی ہے، مگر قومی تشکیل مشترک ذمہ داری، مشترک اختیار اور مشترک سیاسی شعور سے ہوتی ہے۔ وہ سماج جس میں مرد تاریخ بنائیں اور عورتیں صرف اس تاریخ کی قیمت ادا کریں، ابھی مکمل سیاسی قوم نہیں بنا۔ قومی تشکیل اس وقت شروع ہوتی ہے جب قربانی ہی نہیں، اختیار بھی مشترک ہو، جب ذمہ داری ہی نہیں، فیصلہ بھی مشترک ہو، جب عورت سے صرف صبر اور وفاداری نہیں، فکر اور قیادت بھی متوقع ہو۔ عورت کی شمولیت اسلیئے قومی جنگ میں محض افرادی قوت کا اضافہ نہیں کرتی، قوم کے تصور کو مکمل کرتی ہے۔
مزاحمت کا بلند ترین مفہوم شاید یہی ہے کہ انسان صرف بیرونی محکومی سے نہیں لڑتا، بلکہ اپنے اندر اس محکومی کے پیدا کردہ اخلاق اور اپنے سماج کی موروثی زنجیروں سے بھی برسرِ پیکار ہوتا ہے۔ عورت کیلئے یہ کشمکش دوہری ہوسکتی ہے۔ اسے قابض طاقت کے سیاسی جبر کے مقابل بھی کھڑا ہونا ہے اور اپنے سماج کے اس ذہنی ورثے کے خلاف بھی جس نے اسے کم تر، کم صاحبِ اختیار یا کسی مرد کی تکمیل سمجھا۔ ان دونوں لڑائیوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا فکری سہولت تو ہوسکتی ہے، حقیقت نہیں۔ قومی آزادی اگر عورت کی آزادی کو کسی نامعلوم مستقبل تک مؤخر کرتی ہے تو وہ اپنے آزاد مستقبل کے اندر نئی محکومی کا بیج بو رہی ہے، اور عورت کی آزادی اگر قومی محکومی کے سوال کو کلیتاً غیر متعلق سمجھتی ہے تو وہ اپنے تاریخی معروض کے ایک بنیادی رشتے کو نظرانداز کرتی ہے۔ حقیقی سیاسی شعور دونوں کو ایک دوسرے میں مدغم نہیں کرتا، مگر دونوں کے باہمی تعلق سے بھی انکار نہیں کرتا۔
اس تمام بحث کا نچوڑ شاید یہ ہے کہ عورت کو مزاحمت میں محض “جگہ” نہیں چاہیئے، اختیار چاہیئے۔ جگہ کوئی دوسرا دیتا ہے، اختیار انسان اپنی سیاسی حیثیت کے طور پر حاصل کرتا ہے۔ اسے صرف شامل نہ کیا جائے، اسے پڑھنے، سمجھنے، سوال اٹھانے، فیصلہ کرنے، قیادت کرنے، غلطی کرنے اور غلطی سے سیکھنے کا پورا حق حاصل ہو۔ اس سے سیکھا بھی جائے، اسے اختلاف کی اجازت بھی ہو، اسے اپنی زندگی کے متعلق فیصلہ کرنے کی اہلیت بھی دی جائے، اور اس کی قوت کو کوئی غیر معمولی کرشمہ سمجھ کر رومانوی بھی نہ بنایا جائے۔ سب سے بڑھ کر عورت اپنے آپ کو بھی اس سستی تسلی سے آزاد رکھے کہ کسی تحریک میں موجود ہونا بذاتِ خود سیاسی شعور کا ثبوت ہے۔
تاریخ میں داخل ہونا تنظیمی فہرست میں نام درج ہوجانے کا نام نہیں۔ تاریخ میں داخل ہونا اپنے ذہن پر حقِ تصرف حاصل کرنے کا نام ہے۔ جو عورت اپنے فیصلے کی معنویت نہیں سمجھتی، جو کسی شخصیت، تعلق، غصے، محرومی یا عارضی ہیجان کے سپرد اپنا مستقبل کردیتی ہے، وہ کسی بڑے واقعے کا حصہ تو بن سکتی ہے مگر ضروری نہیں کہ اپنی تاریخ کی مصنف بھی بن سکے۔ تاریخ کی مصنف وہ بنتی ہے جو اپنے عمل کے معنی خود سمجھتی ہے، سوال کرتی ہے، علم حاصل کرتی ہے، اپنی کمزوریوں سے واقف رہتی ہے، عقیدت کو عقل پر غالب نہیں آنے دیتی، اور اپنے فیصلے کی ذمہ داری دوسروں پر منتقل نہیں کرتی۔ قومی تحریک کو ایسی ہی عورت چاہیئے اور حقیقت یہ ہے کہ آزاد قوم کو اس سے بھی زیادہ ایسی عورت درکار ہوگی۔ آزادی کے بعد ریاستیں صرف آئین، فوج، پرچم اور سرحد سے قائم نہیں رہتیں، بلکہ ان انسانوں کے اخلاق سے قائم رہتی ہیں جن کے سپرد اقتدار آتا ہے۔ اگر آج کی جدوجہد راست گو، صاحبِ کردار، خودمختار، فکری طور پر بالغ عورت اور مرد پیدا نہیں کرتی تو ممکن ہے کل حکمران کا نام بدل جائے، پرچم بدل جائے، دارالحکومت بدل جائے، مگر اقتدار کا اخلاق وہی رہے۔ پھر آزادی واقعہ تو ہوگی، انقلاب نہیں۔
اسلیئے عورت کی جدوجہد کا آخری مقصود یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ تاریخ اس کے نام کے ساتھ “بہادر” لکھ دے۔ بہادری کبھی ایک لمحے میں ثابت ہوسکتی ہے، کردار ایک عمر میں تشکیل پاتا ہے۔ اصل فتح اس روز ہوگی جب آنے والی بلوچ لڑکی کو یہ ثابت کرنے کی حاجت نہ رہے کہ وہ مرد سے کم نہیں، جب اسے اپنے قومی حق، اپنی ذہانت، اپنے اختیار اور اپنی سیاسی اہلیت کی دلیل دینے کی ضرورت نہ پڑے، جب وہ مزاحمت میں کسی کیلئے استثنا، علامت یا حیرت نہ ہو بلکہ ایک معمول کی سیاسی حقیقت ہو۔
اور شاید کسی قومی تحریک کیلئے عورت کے باب میں سب سے بڑی کامیابی بھی یہی ہوگی کہ ایک دن “عورت کی شمولیت” بطور الگ موضوع غیر ضروری ہوجائے، کیونکہ قوم خود اس درجے تک پہنچ چکی ہو جہاں عورت کو تاریخ میں جگہ دینے کا سوال ہی مضحکہ خیز محسوس ہو۔ تب عورت مزاحمت میں شامل نہیں ہوگی، وہ مزاحمت کی تعریف میں پہلے سے موجود ہوگی۔
قوم اس وقت آزادی کے معنی سمجھنا شروع کرتی ہے جب اس کے اندر کوئی انسان اپنی جنس، خاندان، مرتبے یا روایت کی وجہ سے دوسرے انسان کی تقدیر کا مالک نہ رہے۔ اگر عورت کو قربانی دینا سکھایا جائے مگر اختیار کرنا نہیں، اگر اسے مرنا تو سکھایا جائے مگر فیصلہ کرنا نہیں، اگر اسے وفاداری تو سکھائی جائے مگر سوال نہیں، تو ایسی مزاحمت نے ایک بہادر عورت ضرور پیدا کی ہوگی، ایک آزاد انسان نہیں۔
اور جس قومی تحریک کو آزاد انسان پیدا کرنا نہیں آتا، اسے آزادی حاصل ہوجانے کے بعد بھی آزادی سنبھالنا نہیں آئے گا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































