بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” نے چاغی میں پاکستانی فورسز پر حملوں اور جھڑپوں میں جانبحق ہونے والے اپنے 10 سرمچاروں کی تفصیلات تنظیم کے آفیشل چینل “ہکل” پر جاری کردی ہیں۔
بی ایل اے نے گذشتہ دنوں اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے 31 اگست کو چاغی کے علاقے نوکچاہ میں قابض پاکستانی فوج کے ساتھ ہونے والی شدید جھڑپوں میں دشمن کے ایک اعلیٰ آفیسر سمیت 16 اہلکار ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہو گئے۔
4 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والی ان جھڑپوں میں بی ایل اے کے 10 سرمچار سنگت ظہیر مینگل عرف ذاکر، سنگت اعجاز احمد مینگل عرف حیات، سنگت علی نواز مینگل عرف فراز، سنگت محمد شاکر شاہوانی عرف عصمت اللہ، سنگت نور احمد نوتیزئی عرف شادین، سنگت میر علی موسیٰ زئی عرف فیاض، سنگت عزیر احمد ماندائی عرف تنویر، سنگت نصیر احمد محمد حسنی عرف سلال، سنگت لال محمد حسنی عرف عدنان اور سنگت یاسر عرف سبزو شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔
بی ایل اے کے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شہید ہونے والے ساتھی ظہیر احمد مینگل عرف ذاکر، ولد محمد یحییٰ مینگل سکنہ غریب آباد نوشکی نے رواں سال بلوچ لبریشن آرمی میں قومی آزادی و قومی شناخت کے تحفظ و بقا کی جدوجہد میں شمولیت کا فیصلہ کرتے ہوئے شور کے محاذ پر منتقل ہو گئے، بنیادی تربیتی کورسز کے کامیابی کے ساتھ اختتام کے بعد انہوں نے تنظیمی گشت کے سلسلے کو جوائن کیا اور کم مدت میں ایک مؤثر جہدکار کے طور پر خود کو ثابت کیا۔
تنظیم کے مطابق انہوں نے جنگ کے سخت اور مشکل حالات کا مضبوط انقلابی فکر و جذبے کے ساتھ مقابلہ کیا اور ہر جنگی حالت میں ثابت قدم رہ کر اپنے فکر و نظریے کے ساتھ انصاف کیا اور دشمن کے خلاف معاشی ناکہ بندی کی کارروائیوں میں حصہ لیتے رہے۔
بی ایل اے کے مطابق شہید ظہیر مینگل اس نظریاتی اور فکری سوچ کے حامی تھے کہ دشمن کے خلاف انتہائی مضبوط، بے رحم اور طاقتور جنگ کی ضرورت ہے، جو ہماری شناخت و بقا اور قومی سلامتی کو بنیاد سے ختم کرنا چاہتا ہے، اور اسی نظریے کے تحت انہوں نے مختصر مدت میں جنگی میدان میں اپنے عمل و کردار سے اسے ثابت کیا اور آخر تک اس نظریے کے پابند رہے، شہید ظہیر مینگل کی قربانیاں بلوچ قومی تاریخ کا وہ سنہرا باب رہیں گی، جو بلوچ قومی ریاست کی تشکیل کا سبب بنیں گی اور ان کی قربانیوں کو تاریخ میں ایک عظیم جہدکار کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
تنظیم نے کہا ہے کہ شہید ہونے والے دوسرے ساتھی اعجاز مینگل عرف حیات ولد محمد حیات سکنہ غریب آباد نوشکی نے دیگر بلوچ نوجوانوں کی طرح قومی غلامی اور تذلیل کا احساس کرتے ہوئے رواں سال بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت کا فیصلہ کیا اور شور کے محاذ پر منتقل ہو گئے۔
تنظیم کے مطابق انہوں نے مسلح مزاحمت کے فلسفے کو صرف سوچ و فکر کی بنیاد پر قبول نہیں کیا بلکہ اپنی عملی زندگی میں اسے اپنا حصہ بنایا اور دشمن کے خلاف ایک بہادر و بے باک جنگجو کی حیثیت سے متحرک ہو گئے۔ بنیادی فوجی کورسز میں پاس آؤٹ ہونے کے بعد انہیں تنظیمی گشت میں بھیج دیا گیا، جہاں انہوں نے انتہائی ایمانداری اور مخلصی سے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔
“شہید اعجاز مینگل نے علاقے میں قائم تنظیمی برتری اور دشمن کے خلاف جاری معاشی ناکہ بندی کی پالیسی کے جنگی عمل میں بھرپور حصہ لیا اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر تنظیم کی پالیسی کو سختی سے نافذ کروانے میں اپنا انفرادی کردار بہتر انداز میں نبھایا، انہوں نے مختصر مدت میں ساتھیوں کے درمیان اپنا بھروسہ اور اعتماد قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ شہید اعجاز مینگل نے وطن اور قومی آزادی کے لیے اٹھائی گئی قسم کی آخری لمحے تک پاسداری کی اور دشمن کے خلاف ایک کارروائی کے دوران شدید جھڑپوں کے بعد شہادت حاصل کی۔ بلوچ قومی تاریخ میں انہیں ایک بہادر و بے باک سرمچار کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جنہوں نے وطن کی آزادی کے لیے شہادت قبول کی”
بی ایل اے نے کہا ہے کہ خاران سے تعلق رکھنے والے سنگت علی نواز مینگل عرف فراز ولد نائب نور محمد مینگل نے دشمن کے خلاف قومی آزادی کے مسلح محاذ میں شمولیت کا انقلابی فیصلہ کرتے ہوئے رواں سال بلوچ لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم میں شمولیت کا فیصلہ کیا اور شور کے محاذ پر منتقل ہو گئے، انہوں نے تنظیم کی سخت جسمانی ٹریننگ میں خود کو ایک قابل سنگت کے طور پر ثابت کیا اور جنگی ہنر و صلاحیتوں کے ساتھ جنگی میدان میں شامل ہوئے، انہوں نے دیگر ساتھیوں سمیت علاقے میں تنظیمی ناکہ بندی کی پالیسیوں پر عمل درآمد کرانے میں اپنا بہترین انفرادی کردار ادا کیا اور دشمن کی پیش قدمیوں اور مختلف حکمتِ عملیوں کو مسلسل ناکام بنایا۔
“شہید علی نواز اس نازک دور میں بلوچ قوم کو درپیش سخت چیلنجز سے بخوبی آگاہ تھے اور وہ ان کا مستقل حل ایک آزاد بلوچستان کی صورت میں دیکھتے تھے، جہاں بلوچ قوم اجتماعی طور پر ایک آزاد و خودمختار زندگی گزار سکے اسی حقیقت کو بھانپتے ہوئے انہوں نے دشمن کے خلاف مسلح مزاحمت کے فلسفے پر عمل کیا اور آخر تک اس فکر و سوچ کے ساتھ جڑے رہے۔ شہید علی نواز نے جنگی عمل میں خود کو ایک بہترین گوریلا جنگجو کے طور پر ثابت کیا ان کی شہادت اس قومی ادراک کا نتیجہ ہے کہ بلوچ قوم اپنی آزادی و ریاست کی بحالی کے لیے دشمن کے خلاف ہر انتہا تک قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے تاریخ کے صفحات میں وہ ایک عظیم جہدکار کے طور پر یاد رکھے جائیں گے”
تنظیم نے کہا ہے رواں سال تنظیم کا حصہ بننے والے مستونگ کلی ساراوان پدہ کے رہائشی محمد شاکر شاہوانی عرف عصمت ولد اللہ ڈنا بھی دیگر نوجوانوں کی طرح اس قومی حقیقت سے آگاہ ہونے کے بعد کہ بغیر آزاد ریاست کے بلوچ کسی بھی لحاظ سے ایک ترقی یافتہ اور خوشحال زندگی نہیں گزار سکتے، اس ادراک کے نتیجے میں انہوں نے شور کے محاذ سے بلوچ لبریشن آرمی کی صفوں میں شمولیت اختیار کر لی اور دشمن کے خلاف مسلح مزاحمت کے میدان میں متحرک ہو گئے۔
بی ایل اے کے مطابق انہوں نے تنظیم کے سخت جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی کورسز کو بہترین ہنر و صلاحیت کے ساتھ پاس کیا اور جلد ہی ایک قابل و لائق سرمچار کے طور پر اپنی شناخت بنا لی اور فعال ہو گئے ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد انہیں جنگی محاذ پر منتقل کیا گیا، جہاں آخر تک انہوں نے بہترین انداز میں اپنی خدمات انجام دیں۔
تنظیم نے انکے حوالے کہا ہے شہید شاکر شاہوانی نے دشمن کے خلاف کئی فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا اور اسے شدید نقصانات سے دوچار کیا ان کے مزاج میں سنجیدگی اور فکر میں ایک گہری بالیدگی پوشیدہ تھی اور وہ اس فکری بالیدگی کو اپنے عمل و کردار سے ہمیشہ ثابت کرتے تھے، ان کے اندر موجود جنگی صلاحیتیں ہمیشہ انہیں منفرد بناتی تھیں۔
“انہوں نے قومی آزادی کے میدان میں خود کو قربان کرتے ہوئے خود کو ان عظیم جہدکاروں کے صفحوں میں شامل کر دیا، جنہوں نے وطن کی آزادی، بلوچ عوام کی خوشحالی اور ریاستِ بلوچستان کی آزادانہ حیثیت کی بحالی کے لیے خود کو قربان کیا اور تاریخ میں سرخرو ہو گئے”
تنظیم نے کہا ہے دالبندین سے تعلق رکھنے والے سنگت نور احمد نوتیزئی عرف شادین ولد عبدالرب نوتیزئی نے بلوچ مسلح مزاحمت کے قومی و نظریاتی، سیاسی اور شعوری پروگرام کو سمجھ کر رواں سال بلوچ لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم سے جنگ کا حصہ بن گئے اور شور کے گراؤنڈ پر متحرک ہو گئے۔
تنظیم نے کہا ہے بنیادی فوجی کورسز میں پاس آؤٹ ہونے اور خود کو ایک محنتی، قابل، بے باک اور بہادر سرمچار کے طور پر ثابت کرنے کے بعد، کمان کی ہدایت پر انہوں نے چاغی کے میدان سے دشمن کے خلاف عملی جنگی سرگرمیوں کا آغاز کیا، انہوں نے متعلقہ علاقے میں نافذ تنظیمی معاشی ناکہ بندی کی پالیسی کے مطابق دشمن کو شدید مالی نقصانات سے دوچار کیا اور آخری وقت تک تنظیمی پروگرام کے تحت علاقے میں متحرک رہے۔
بی ایل اے نے کہا ہے شہید سنگت نور احمد نوتیزئی نے علاقے میں تنظیمی برتری قائم کرنے اور دشمن کے خلاف مسلح کارروائیوں سمیت مختلف سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا وہ جنگ کے میدان کی حقیقت اور حالات کو سمجھنے والے اور دشمن پر سخت وار کرنے کی صلاحیت سے بھرپور ساتھی تھے دشمن کے ساتھ ہونے والی ایک جھڑپ میں، کئی دشمن اہلکاروں کو ساتھیوں سمیت موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد، انہوں نے وطن کی حفاظت اور آزادی کی خاطر خود کو قربان کر دیا۔
“انہوں نے اپنی شہادت سے اسی پیغام کو واضح کر دیا جو دیگر ساتھی پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ بلوچ قوم اپنے وطن کی آزادی اور ریاست کی بحالی کے لیے دشمن کے خلاف کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ ان کی قربانیاں تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کا ثمر ایک آزاد بلوچستان کی صورت میں قوم کو ملے گا”
بی ایل اے نے کہا ہے دالبندین سیاہ چنگ سے تعلق رکھنے والے سنگت میر علی موسیٰ زئی عرف فیاض ولد نیک محمد موسیٰ زئی نے دیگر ساتھیوں کی طرح رواں سال بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد میں شمولیت کا فیصلہ کرتے ہوئے بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے شور کے محاذ کو جوائن کر لیا اور دشمن کے خلاف متحرک ہو گئے۔
بی ایل اے کے مطابق تنظیم کی سخت اور مشکلات سے بھرپور فوجی تربیت میں بہترین کیڈر کے طور پر پاس آؤٹ ہونے کے بعد انہوں نے جنگی محاذ جوائن کیا، جہاں انہوں نے دشمن کے خلاف کئی کارروائیوں میں حصہ لیا اور متعلقہ علاقے میں تنظیمی طاقت و برتری کو برقرار رکھنے کے لیے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کیا، انہوں نے دشمن کے خلاف جاری معاشی ناکہ بندی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس سے آج دشمن کی لوٹ مار کی پالیسیاں شدید متاثر ہیں۔
تنظیم کے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شہید میر علی موسیٰ زئی جنگ کے میدان میں ایک لائق، قابل اور بہادر کیڈر کے طور پر متحرک تھے اور تنظیم کے انقلابی کلچر و اپروچ سے ہم آہنگ ساتھی تھے جنگی میدان میں کم مدت کے باوجود انہوں نے اپنے عمل و کردار سے ایک اچھا اور مؤثر اثر چھوڑا بلوچ قومی آزادی کے عظیم قومی و انقلابی مقصد سے ہم آہنگ، انہوں نے آخری دم تک وطن کی حفاظت کی اور دشمن کے خلاف اپنی عملی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
“دیگر ساتھیوں کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران انہوں نے کئی گھنٹے لڑنے کے بعد شہادت حاصل کی اور تاریخ کے میدان میں سرخرو ہو گئے ان کی قربانیاں اور لہو اس جنگ کی مزید آبیاری کریں گے، جس کا محور ایک آزاد بلوچستان ہوگا”
بی ایل اے نے کہا ہے چاغی میں شہید ہونے والے انکے ساتھی عزیز احمد ماندائی عرف تنویر ولد عبدالشکور سکنہ زنگی ناوڑ نوشکی نے قومی غلامی، تذلیل، لوٹ مار اور مستقل اذیت و تشدد کی پہچان اور قومی آزادی و ریاست کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے رواں سال بلوچ لبریشن آرمی کے عظیم انقلابی مقصد و پروگرام کے ساتھ جڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور شور کے محاذ پر سرگرم ہو گئے۔
“تنظیم کے سخت جنگی ٹریننگ کو پاس آؤٹ کرنے کے بعد تنظیمی گشت میں فعال ہوئے اور دشمن کے خلاف ہونے والی جنگی کارروائیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ علاقے میں تنظیمی طاقت و برتری قائم کرنے کے ساتھ ساتھ دشمن کے خلاف ہونے والی معاشی و جنگی اقدامات میں انہوں نے بہترین انفرادی کردار ادا کی”
تنظیم کے مطابق عزیز ماندائی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ اگر دشمن کو یہاں تک روکا نہیں گیا، اس کے خلاف ایک عملی و طاقت ور جنگ کا آغاز نہیں کیا گیا تو وہ بلوچستان کی آزادنہ حیثیت کا خاتمہ کرتے ہوئے یہاں پنجابی سامراجیت کی بدترین شکل فعال کریں گے جو ہر لحاظ سے ہماری مستقل تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
“انہوں نے اس ادراک کو عملی شکل دیتے ہوئے بی ایل اے کے محاذ سے دشمن کے ان پالیسیوں کو ناکام بنانے و بلوچستان کی آزادی کے لیے آخر تک لڑتے رہے اور اپنی انفرادی ذمہ داریاں پورا کیں۔ عزیز ماندائی بلوچستان کی تاریخ میں ان عظیم جہدکاروں میں شامل ہوں گے جنہوں نے اپنا لہو اور زندگی آنے والی نسلوں کی آزادی کے لیے وقف کیا”
تنظیم کے تفصیلات کے مطابق شہید نثار احمد عرف سلال ولد غوث بخش محمد حسنیٰ سکنہ زنگی ناوڑ نوشکی نے رواں سال شور کے محاذ سے بلوچ قومی آزادی، ریاست کی بحالی، قومی شناخت و بقا کی خاطر اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اور بلوچ لبریشن آرمی کے ان جنگجوؤں میں شامل ہو گئے جہاں انہوں نے کم مدت میں خود کو ایک انقلابی اور متحرک سنگت کے طور پر منوایا۔
“انہوں نے تنظیم کی سخت فوجی تربیت میں بھرپور محنت کے ساتھ حصہ لیا اور تربیت مکمل کرنے کے بعد گشت میں شامل ہو گئے، جہاں انہوں نے دشمن کے خلاف جاری معاشی ناکہ بندی میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ فوج پر سخت ضربیں لگانے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ علاقے میں دشمن کی نقل و حرکت کو محدود کرنے اور تنظیمی طاقت کی تشکیل میں انہوں نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کیا”
بی ایل اے نے کہا ہے شہید نثار احمد نے جنگ کے سخت حالات کا بھرپور مقابلہ کیا اور ہر طرح کی مشکلات کو انقلابی فکر و جذبے کے ساتھ قبول کیا وہ ان انقلابی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے جو وطن و قومی آزادی کے لیے ہر انتہا تک جانے کو ہمیشہ تیار رہتے تھے۔ علاقے میں ہونے والی تنظیمی سرگرمیوں میں انہوں نے بھرپور حصہ لیا اور آخر تک اپنی سوچ اور مقصد سے جڑے رہے۔ وہ دشمن کے ساتھ ایک طویل جھڑپ کے بعد وطن پر قربان ہو گئے ان کی قربانی کو تاریخ میں ایک عظیم انقلابی جہدکار کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جنہوں نے ذاتی زندگی کو ترجیح دینے کے بجائے وطن و ریاست کی آزادی کو اپنی زندگی سے زیادہ اہمیت دی جو ہماری اجتماعی بقا کا ضامن ہیں۔
تنظیمی تفصیلات کے مطابق یاسر عرف سبزو ولد حبیب اللہ سکنہ کلی پسند خان گرگینہ نے رواں سال قومی غلامی کے خلاف مسلح مزاحمت کی اہمیت اور اسے قومی و ریاستی تشکیل کے مقصد کے طور پر قبول کرتے ہوئے بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت کا فیصلہ کیا اور شور کے محاذ پر منتقل ہو گئے، بنیادی فوجی کورسز کو سخت محنت و مشقت کے ساتھ مکمل کرتے ہوئے انہوں نے گشت جوائن کیا، جہاں انہوں نے دشمن کے خلاف مختلف فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا، جبکہ دشمن کی لوٹ کھسوٹ پر مبنی پالیسیوں کے خلاف بھی ساتھیوں سمیت اہم اقدامات اٹھائے انہوں نے مختصر مدت میں جنگ کے میدان میں خود کو ایک انقلابی، بہادر اور بے باک سرمچار کے طور پر منوایا۔
تنظیم نے کہا شہید یاسر اس تاریخی حقیقت سے آگاہ تھے کہ ریاستی خودمختاری کے بغیر قومی خوشحالی و آزادی کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے، اور اسی ادراک نے انہیں مسلح مزاحمت کے پلیٹ فارم پر متحرک کیا، جہاں انہوں نے قبضہ گیر فوج کے خلاف کئی فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا اور اسے شدید نقصانات سے دوچار کیا۔
“دشمن کے ساتھ ایک طویل جھڑپ کے دوران انہوں نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر دشمن کو شدید جانی نقصانات پہنچانے کے بعد شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔ شہید یاسر نے تذلیل و ذلت بھری غلامی کی زندگی کو قبول کرنے کے بجائے قومی آزادی کے لیے جدوجہد کو ترجیح دی اور اسی مقصد سے جڑ کر قربان ہو گئے۔ تاریخ انہیں ایک عظیم انقلابی سرمچار کے طور پر یاد رکھے گی”
تنظیم کے مطابق نوکجا محاذ پر شہید ہونے والے دسویں ساتھی چاغی سے تعلق رکھنے والے شہید سنگت لال عرف عدنان ولد محمد حیات محمد حسنی نے رواں سال بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت کا فیصلہ کیا اور شور کے محاذ پر منتقل ہو گئے، تنظیم کی بنیادی فوجی تربیت میں پاس آؤٹ ہونے کے بعد انہوں نے تنظیمی گشت جوائن کر لیے اور دشمن کے خلاف ہونے والی کئی کارروائیوں میں بھرپور حصہ لیا۔
تنظیم نے کہا ہے انہوں نے قبضہ گیر کی پالیسیوں کے خلاف خاموشی اختیار کرنے کے بجائے مزاحمت کی راہ اپنانے کا تاریخی فیصلہ کیا، کیونکہ وہ سمجھ چکے تھے کہ دشمن کے خلاف یہ جنگ ہماری شناخت اور بقا کی جنگ ہے، جو ہماری اجتماعی زندگی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اسی شعوری آگاہی نے انہیں مزاحمت کے راستے پر آخر تک قائم رکھا۔
بی ایل اے کے مطابق شہید لال نے متعلقہ علاقے میں دشمن کے خلاف فوجی کارروائیوں اور دیگر تنظیمی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر دشمن پر کاری ضربیں لگائیں انہوں نے تنظیمی معاشی ناکہ بندی کی پالیسی پر عملدرآمد کرانے میں ساتھیوں کی بھرپور انفرادی معاونت کی اور جنگی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور جوہر دکھایا۔
“وہ آخر تک دشمن کے خلاف ایک متحرک اور فعال سرمچار کی حیثیت سے سرگرم رہے۔ دشمن کے ساتھ ایک طویل جھڑپ میں انہوں نے دالبندین کے مقام پر شہادت حاصل کر لی اور اپنا نام تاریخ کے ان عظیم جہدکاروں کے ساتھ جوڑ دیا جو بلوچ قومی تاریخ کا ہمیشہ حصہ رہیں گے۔ ان کی قربانیوں کا ثمر ایک آزاد بلوچ ریاست کے قیام کی صورت میں نکلے گا”



















































