وطن کا محافظ – شہید میر اقبال شاہوانی
تحریر: یعقوب بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
اُس نے اپنا سب کچھ وطن کے نام کر دیا، اپنی جان، اپنا ہر لمحہ، اور اپنی ہر سانس۔ وہ چلا گیا مگر اس کا کردار، اس کی ہمت، اور اس کی وہ مسکراہٹ ہمیشہ ہمارے دل میں رہے گی۔ اُس کی قربانی ایک ایسا چراغ ہے جو اندھیروں میں بھی روشنی بکھیرتا ہے۔
“وطن کے نام اس نے اپنی جان لکھ دی، سچائی اور وفا کی مٹی پر اپنا لہو بہا دیا۔ وہ گیا مگر اُس کی یاد ایک دائمی نغمے کی طرح دل میں بجتی رہے گی۔”
کچھ لوگ اپنی زندگی صرف اپنے لیے نہیں جیتے، بلکہ اپنی قوم، اپنے وطن اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے جیتے ہیں۔ ہمارا عزیز دوست بھی انہی لوگوں میں سے تھا، جس نے اپنے وطن کی حفاظت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ جب سرد راتوں میں ہر شخص اپنے گھر کی گرمائش میں سو رہا ہوتا ہے، تب وطن کے محافظ برفانی ہواؤں، اندھیری راتوں اور ہر خطرے کا سامنا کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہوتے ہیں۔
ہمارا دوست بھی انہی بہادروں میں شامل تھا، جس نے اپنی آخری سانس تک اپنے فرض سے وفاداری نبھائی۔ اس کی شہادت صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں بلکہ پوری قوم کا نقصان ہے۔ اس نے اپنے خون سے وفا، جرات، اور ایثار کی ایسی داستان لکھی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
اس کا کردار ہمیں سکھاتا ہے کہ سچی محبت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عمل اور قربانی سے ثابت ہوتی ہے۔
آج اگرچہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں مگر اس کی یاد، اس کی مسکراہٹ، اس کی خوش اخلاقی، اس کی بہادری اور اس کی قربانی ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ ایسے لوگ دنیا سے رخصت ضرور ہو جاتے ہیں مگر تاریخ اور لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
وہ اپنے وطن کے لیے آخری حد تک ڈٹا رہا، زخمی ہونے کے باوجود، اُس نے ہار نہیں مانی۔ ایسے لوگ ہی قوموں کے لیے مثال بنتے ہیں۔ اس کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آزادی اور امن مفت نہیں ملتے بلکہ ان کے پیچھے بے شمار قربانیاں ہوتی ہیں۔ اُس کا نام اور اُس کی بہادری ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی، اور ہم اُس کی یاد کو احترام اور شکرگزاری سے کبھی نہیں بھولیں گے۔
وہ صرف وطن کا محافظ نہیں تھا، بلکہ وہ قرآنِ مجید کا حافظ بھی تھا۔ اس کی زندگی ایمان، صبر، اخلاق اور علمِ دین سے آراستہ تھی۔ وہ دینی تعلیم حاصل کر رہا تھا اور اپنے کردار سے دوسروں کے لیے ایک مثال تھا۔ اس کی گفتگو میں نرمی، رویے میں عاجزی اور دل میں اللہ اور اس کے بندوں کی محبت تھی۔ وطن کی حفاظت اُس کے لیے صرف فرض نہیں بلکہ عبادت تھی جسے اس نے آخری لمحے تک نبھایا۔ اس کی بہادری، اس کا استقامت اور اس کا ایثار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں مگر اس کا پاکیزہ کردار، اس کی خدمت، اس کی دیانت، اور اس کی نیک یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
شہید ماسٹر اقبال کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ روشن مینار رہے گی۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اپنے ملک، اپنی قوم اور اپنے اصولوں کے لیے وقف کر دی۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آزادی، عزت اور امن جیسی نعمتیں قربانیوں کے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ اس یقین کے ساتھ انھوں نے ہر مشکل، ہر آزمائش اور ہر خطرے کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ ان کی قربانیاں وقت کی حد تک محدود نہیں تھیں۔ اس نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنی قوم کے مستقبل کے لیے جدوجہد کی۔ یہ ثابت کیا۔ آج بھی شہید ماسٹر اقبال کا نام بہادری، شجاعت، وفاداری اور قربانی کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی زندگی اور جدوجہد ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو جذبے سے اپنی قوم اور ملک کی خدمت کرتا ہے۔ تاریخ ان کے کارناموں کو ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے گی اور آنے والی نسلیں ان کی بے پناہ قربانیوں سے جرات، عزم اور وطن سے بے لوث محبت کا سبق سیکھتی رہیں گی۔
شہید کبھی مرتے نہیں، وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہوتے ہیں اور قوم کے دلوں میں ہمیشہ عزت، محبت اور فخر کے ساتھ یاد کیے جاتے ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































