بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” نے کیچ کے علاقے دشت میں جانبحق ہونے والے اپنے دو ساتھیوں کی تفصیلات تنظیم کے آفیشل چینل ہکل پر جاری کردی ہیں۔
تنظیم کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شہید سنگت یونس سبزل عرف ملگزار، ولد سبزل بزنجو، صاحب داد بازار، دشت، ڈڈے، کیچ کے رہائشی تھے۔
“انہوں نے 5 فروری 2025 کو بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور ساہیجی، کلبر اور زامران کے محاذوں پر سرگرم رہے، تنظیم کے مطابق وہ یکم ستمبر 2026 کو دشت، کیچ میں شہید ہوئے”
بی ایل اے کے مطابق ساہیجی، کلبر اور زامران کے محاذ پر گزشتہ دو سالوں سے متحرک شہید سنگت یونس ایک انتہائی قابل، بہادر اور شجاعت سے بھر پور سرمچار تھے، جنہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران جنگ کی شدید سختیوں کو انقلابی جذبوں کے ساتھ برداشت کیا اور جنگی محاذ پر مسلسل اپنے عمل، جنگی ہنر اور صلاحیتوں کی وجہ سے دشمن کو پریشان کیا۔
بی ایل اے نے کہا ہے وہ دشمن کے خلاف متعدد جنگی آپریشنز اور کارروائیوں میں حصہ لے چکے تھے، جہاں انہوں نے دشمن کو شدید عزیمت کا سامنا کروایا، وہ ہیروف دوئم کے تاریخی آپریشن میں زخمی بھی ہو گئے تھے جہاں زخموں سے صحت یابی کے بعد انہوں نے واپس محاذ جوائن کر لیا تھا۔
تنظیم کے مطابق شہید سنگت ملگزار کی یہ جنگی صلاحیتیں آخر تک دشمن کے خلاف اسی شدت کے ساتھ استعمال ہوتی رہیں، انہوں نے مکران کے مختلف محاذوں پر کام کیا اور ہر محاذ پر انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کیا، کیچ کے مختلف علاقوں میں تنظیمی سرگرمیوں میں انہوں نے ہر وقت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اور یکم ستمبر کو دشمن کے ساتھ ایک خونریز جھڑپ کے دوران شہادت کے عظیم رتبے کو حاصل کیا سنگت ملگزار نے اس تمام عرصے میں تنظیمی نظم و ضبط کے پابند رہتے ہوئے قومی آزادی کے لیے گراں بہا قربانیاں دیں بلوچ قومی تاریخ میں ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور تاریخ کے پنوں میں انہیں ایک بہادر سرمچار کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جنہوں نے دھرتی کی آزادی کے لیے خود کو فنا کر دیا۔
تنظیم نے اپنے دوسرے ساتھی کے حوالے سے بتایا کہ شہید سنگت دودا بلوچ عرف سرباز، ولد ابراہیم بلوچ، کلانچی پاڈہ، گوادر کے رہائشی تھے، انہوں نے 2026 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور ساہیجی کے محاذ پر سرگرم رہے وہ یکم ستمبر 2026 کو دشت، کیچ میں شہید ہوئے۔
بی ایل اے کے مطابق شہید سنگت دودا عرف سرباز نے رواں سال بلوچ لبریشن آرمی کی مسلح مزاحمت کے مرکزی نقطے کی اہمیت کو سمجھ کر بلوچ قومی آزادی کے فکری، نظریاتی و ریاستی تشکیل کے عمل کا حصہ بن گئے اور مکران کے محاذ پر دشمن کے خلاف فعال ہو گئے۔ انہوں نے تنظیم کے فوجی تربیتی کورسز میں بھرپور حصہ لیا اور ہمیشہ محنت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں پوری کیں ایک نئے کیڈر کی حیثیت سے انہوں نے جلد ہی جنگ کی نئی ضروریات اور تقاضوں کو اپنا لیا اور جنگی محاذ پر متحرک ہو گئے، جبکہ تنظیمی گشت میں ایک ہونہار اور قابل ساتھی کے طور پر موجود رہے۔
تنظیم کے مطابق شہید دودا ایک حوصلہ مند اور نڈر سرمچار تھے جنہوں نے کئی مرتبہ دشمن کا بہترین مہارت سے مقابلہ کیا اور اسے شکستِ فاش سے دوچار کر دیا، انہوں نے اپنے تعینات علاقے میں تنظیمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، تنظیمی نظم و ضبط کو اپنی عملی سرگرمیوں کا محور بنایا اور ثابت کیا کہ بلوچ سرمچار آج دشمن کے خلاف ہر حوالے سے طاقتور مورچہ بن چکے ہیں، ان کی قربانیاں تاریخ کے صفحات میں ان عظیم جہدکاروں کی صفوں میں شامل ہوں گی، جنہوں نے وطن اور قومی آزادی کو اپنی زندگی سے زیادہ مقدم بنایا اور اس مقصد کے حصول کے لیے وطن پر قربان ہو گئے۔



















































